حدیث نمبر: 11636
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يَجِيءُ الْقُرْآنُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ كَالرَّجُلِ الشَّاحِبِ يَقُولُ لِصَاحِبِهِ : هَلْ تَعْرِفُنِي ؟ أَنَا الَّذِي كُنْتُ أُسْهِرُ لَيْلَكَ ، وَأُظْمِئُ هَوَاجِرَكَ ، وَإِنَّ كُلَّ تَاجِرٍ مِنْ وَرَاءِ تِجَارَتِهِ ، وَأَنَا لَكَ الْيَوْمَ مِنْ وَرَاءِ كُلِّ تَاجِرٍ . فَيُعْطَى الْمُلْكَ بِيَمِينِهِ ، وَالْخُلْدَ بِشِمَالِهِ ، وَيُوضَعُ عَلَى رَأْسِهِ تَاجُ الْوَقَارِ ، وَيُكْسَى وَالِدَاهُ حُلَّتَيْنِ لَا تَقُومُ لَهُمَا الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا ، فَيَقُولَانِ : يَا رَبِّ ، أَنَّى لَنَا هَذَا ؟ فَيُقَالُ لَهُمَا : بِتَعْلِيمِ وَلَدِكُمَا الْقُرْآنَ " . قُلْتُ : رَوَى التِّرْمِذِيُّ بَعْضَهُ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْحِمَّانِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” قیامت کے دن ، قرآن ایک حسین و جمیل شخص کی شکل میں آئے گا اور اپنے پڑھنے والے سے کہے گا : کیا تم مجھے پہچانتے ہو ؟ میں وہ ہوں ، جو رات کو تمہیں جگایا کرتا تھا اور دن کے وقت تمہیں پیاسا رکھتا تھا ، ہر تاجر اپنی تجارت سے دور ہو چکا ہے اور آج میں تمہارے کام آؤں گا ، تو اس شخص کے دائیں ہاتھ میں بادشاہی دی جائے گی اور بائیں ہاتھ میں ہمیشہ رہنا دیا جائے گا اور اس کے سر پر وقار کا تاج رکھا جائے گا اور اس کے ماں باپ کو دو حلے پہنائے جائیں گے کہ دنیا اور اس میں موجود سب چیزیں اُن کی قیمت نہیں ہو سکتیں ، وہ دونوں عرض کریں گے : اے ہمارے پروردگار ! یہ ہمیں کیوں دیے گئے ہیں ؟ تو ان سے کہا: جائے گا : کیونکہ تم نے اپنے بچے کو قرآن کی تعلیم دی تھی “ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ترمذی نے اس کا کچھ حصہ نقل کیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن عبدالعزیز حمانی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 11636
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف