مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب التفسير— تفسیر کے بارے میں روایات
بَابٌ مِنْهُ فِي فَضْلِ الْقُرْآنِ ، وَمَنْ قَرَأَهُ . باب: قرآن اور اس کو پڑھنے والے کی فضیلت کا بیان
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يُؤْتَى بِرَجُلٍ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَيُمَثَّلُ لَهُ الْقُرْآنُ ، قَدْ كَانَ يُضَيِّعُ فَرَائِضَهُ ، وَيَتَعَدَّى حُدُودَهُ ، وَيُخَالِفُ طَاعَتَهُ ، وَيَرْكَبُ مَعَاصِيَهُ ، فَيَقُولُ : أَيْ رَبِّ ، حَمَّلْتَ آيَاتِي بِئْسَ حَامِلٍ ، تَعَدَّى حُدُودِي وَضَيَّعَ فَرَائِضِي وَتَرَكَ طَاعَتِي ، وَرَكِبَ مَعْصِيَتِي ، فَمَا يَزَالُ عَلَيْهِ بِالْحُجَجِ حَتَّى يُقَالَ : فَشَأْنَكَ بِهِ ، فَيَأْخُذُ بِيَدِهِ فَمَا يُفَارِقُهُ حَتَّى يَكُبَّهُ عَلَى مِنْخَرِهِ فِي النَّارِ . وَيُؤْتَى بِالرَّجُلِ قَدْ كَانَ يَحْفَظُ حُدُودَهُ ، وَيَعْمَلُ بِفَرَائِضِهِ ، وَيَعْمَلُ بِطَاعَتِهِ ، وَيَجْتَنِبُ مَعْصِيَتَهُ فَيَصِيرُ خَصْمًا دُونَهُ ، فَيَقُولُ : أَيْ رَبِّ ، حَمَّلْتَ آيَاتِي خَيْرَ حَامِلٍ ، اتَّقَى حُدُودِي ، وَعَمِلَ بِفَرَائِضِي ، وَاتَّبَعَ طَاعَتِي ، وَاجْتَنَبَ مَعْصِيَتِي ، فَلَا يَزَالُ لَهُ بِالْحُجَجِ حَتَّى يُقَالَ : فَشَأْنَكَ بِهِ ، فَيَأْخُذُ بِيَدِهِ ، فَمَا يَزَالُ لَهُ حَتَّى يَكْسُوَهُ حُلَّةَ الْإِسْتَبْرَقِ ، وَيَضَعَ عَلَيْهِ تَاجَ الْمُلْكِ ، وَيَسْقِيَهُ بِكَأْسِ الْمُلْكِ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ إِسْحَاقُ وَهُوَ ثِقَةٌ ، وَلَكِنَّهُ مُدَلِّسٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” قیامت کے دن ، ایک شخص کو لایا جائے گا ، قرآن کو اس کے سامنے انسانی شکل میں لایا جائے گا ، یہ وہ شخص ہو گا ، جو قرآن کو ضائع کرتا تھا اور اس کی حدود کو پامال کرتا تھا اور اس کی اطاعت ( کے احکام ) کی مخالفت کرتا تھا اور اس کے بیان کردہ گناہوں کا مرتکب ہوتا تھا ، وہ کہے گا : اے میرے پروردگار ! تو نے میری آیات کا علم ایک ایسے شخص کو عطا کیا ، جس نے میری حدود کی خلاف ورزی کی ، میرے فرائض کو ضائع کیا ، میری اطاعت کو ترک دیا ، میری معصیت کا ارتکاب کیا ، پھر قرآن مسلسل اُس شخص کے خلاف دلائل دیتا رہے گا ، یہاں تک کہ کہا: جائے گا : تم اسے سنبھالو ! تو قرآن اس شخص کا ہاتھ پکڑے گا اور اس سے اُس وقت تک جدا نہیں ہو گا ، جب تک اُسے نتھنوں کے بل جہنم میں نہیں ڈال دے گا ، پھر ایک شخص کو لایا جائے گا ، جو قرآن کی حدود کی حفاظت کرتا تھا ، اس کے فرائض پر عمل کرتا تھا ، اس کی حدود پر عمل کرتا تھا ، اس کی معصیت سے اجتناب کرتا تھا ، تو قرآن اس کی طرف سے بحث کرنے والا ہو جائے گا اور کہے گا : اے میرے پروردگار ! تو نے میری آیات کا علم بہتر شخص کو دیا تھا ، جس نے میری حدود کے حوالے سے میری پرہیز گاری اختیار کی ، میرے فرائض پر عمل کیا ، میری اطاعت کی پیروی کی ، میری معصیت سے اجتناب کیا ، پھر قرآن مسلسل اس کے حق میں دلائل دیتا رہے گا ، یہاں تک کہ کہا: جائے گا : تم اسے سنبھالو ! تو قرآن اس شخص کا ہاتھ پکڑے گا اور مسلسل اس کے ساتھ رہے گا ، یہاں تک کہ اس کو استبرق سے بنا ہوا حلہ پہنائے گا اور اس پر بادشاہی کا تاج رکھوائے گا اور بادشاہی کے جام میں اُسے پینے کے لئے دے گا “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابن اسحاق ہے اور وہ ثقہ ہے ، لیکن وہ مدلس ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔