حدیث نمبر: 11635
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ : أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِتَعْلِيمِ الْقُرْآنِ ، وَحَثَّنَا عَلَيْهِ ، وَقَالَ : " إِنَّ الْقُرْآنَ يَأْتِي أَهْلَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَحْوَجَ مَا كَانُوا إِلَيْهِ ، فَيَقُولُ لِلْمُسْلِمِ : تَعْرِفُنِي ؟ فَيَقُولُ : مَنْ أَنْتَ ؟ فَيَقُولُ : أَنَا الَّذِي كُنْتَ تُحِبُّ ، وَتَكْرَهُ أَنْ يُفَارِقَكَ الَّذِي كَانَ يَسْحَبُكَ ، وَيُدْنِيكَ . فَيَقُولُ : لَعَلَّكَ الْقُرْآنُ . فَيَقْدَمُ بِهِ عَلَى رَبِّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - فَيُعْطَى الْمُلْكَ بِيَمِينِهِ ، وَالْخُلْدَ بِشِمَالِهِ ، وَيُوضَعُ عَلَى رَأْسِهِ السَّكِينَةُ ، وَيُنْشَرُ عَلَى أَبَوَيْهِ حُلَّتَانِ لَا تَقُومُ لَهُمَا الدُّنْيَا ، أَضْعَافًا ، فَيَقُولَانِ : لِأَيِّ شَيْءٍ كُسِينَا هَذَا وَلَمْ تَبْلُغْهُ أَعْمَالُنَا ؟ فَيَقُولُ : هَذَا بِأَخْذِ وَلَدِكُمَا الْقُرْآنَ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ سُوَيْدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ ، وَأَثْنَى عَلَيْهِ هُشَيْمٌ خَيْرًا ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ .
محمد محی الدین

سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں قرآن سیکھنے کا حکم دیا اور اس کی ترغیب دی اور ارشاد فرمایا : ” یہ قرآن ، قیامت کے دن ، اپنے پڑھنے والے شخص کے پاس اُس وقت آئے گا کہ جب اُسے سب سے زیادہ اس کی ضرورت ہو گی ، وہ مسلمان شخص سے کہے گا : کیا تم مجھے پہچانتے ہو ؟ مسلمان شخص کہے گا : تم کون ہو ؟ وہ کہے گا : میں وہ ہوں ، جس سے تم محبت رکھتے تھے ، اور جس کے بارے میں تم اس بات کو ناپسند کرتے تھے کہ وہ تم سے جدا ہو ، یہ وہ ہے ، جو تمہیں اٹھاتا تھا اور تمہارے ساتھ ہوتا تھا ، تو مسلمان کہے گا : شاید تم قرآن ہو ، پھر قرآن اُس کو ساتھ لے کر اپنے پروردگار کی بارگاہ میں آئے گا ، تو اُس شخص کے دائیں ہاتھ بادشاہی اور بائیں ہاتھ میں ہمیشہ رہنا دیا جائے گا اور اس کے سر پر سکینت کا تاج رکھا جائے گا اور اس کے ماں باپ کو دو حلے پہنائے جائیں گے کہ پوری دنیا اُن کی قیمت نہیں بن سکتی ، خواہ وہ کئی گنا ہو جائے ، وہ دونوں کہیں گے : یہ ہمیں کیوں پہنائے گئے ہیں ؟ جبکہ ہمارے اعمال ، تو اس مقام تک نہیں پہنچتے ہیں ، تو پروردگار فرمائے گا : یہ تمہارے بچے کے قرآن سیکھنے کی وجہ سے ہیں “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی سوید بن عبدالعزیز ہے اور وہ متروک ہے ، ہشیم نے بھلائی کے ہمراہ ، اُس کی تعریف بیان کی ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 11635
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير “ (8119)»