حدیث نمبر: 11634
وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : لِكُلِّ شَيْءٍ سَنَامٌ ، وَسَنَامُ الْقُرْآنِ سُورَةُ الْبَقَرَةِ ، وَإِنَّ لِكُلِّ شَيْءٍ لُبَابًا ، وَإِنَّ لُبَابَ الْقُرْآنِ الْمُفَصَّلُ ، وَإِنَّ الشَّيَاطِينَ لَتَخْرُجُ مِنَ الْبَيْتِ الَّذِي يُقْرَأُ فِيهِ سُورَةُ الْبَقَرَةِ ، وَإِنَّ أَصْغَرَ الْبُيُوتِ الْجَوْفُ الَّذِي فِيهِ مِنْ كِتَابِ اللَّهِ شَيْءٌ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَاصِمُ ابْنُ بَهْدَلَةَ ، وَهُوَ ثِقَةٌ وَفِيهِ ضَعْفٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہر چیز کی ایک چوٹی ہوتی ہے ، قرآن کی چوٹی سورت بقرہ ہے ، اور ہر چیز کا ایک دروازہ ہوتا ہے اور قرآن کا دروازہ ، مفصل ( سورتیں ) ہیں ، اور شیاطین اُس گھر سے نکل جاتے ہیں ، جس میں سورت بقرہ کی تلاوت کی جاتی ہے اور سب سے زیادہ چھوٹا گھر وہ ہے ، جس میں اللہ کی کتاب میں سے کچھ نہ ہو ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عاصم بن بہدلہ ہے اور وہ ثقہ ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 11634
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (8644)»