حدیث نمبر: 11633
عَنْ بُرَيْدَةَ قَالَ : كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ : " تَعَلَّمُوا الْبَقَرَةَ ، فَإِنَّ أَخْذَهَا بَرَكَةٌ ، وَتَرْكَهَا حَسْرَةٌ ، وَلَا يَسْتَطِيعُهَا الْبَطَلَةُ " . قَالَ : ثُمَّ سَكَتَ سَاعَةً ، ثُمَّ قَالَ : " تَعَلَّمُوا الْبَقَرَةَ ، وَآلَ عِمْرَانَ ، فَإِنَّهُمَا الزَّهْرَاوَانِ يُظِلَّانِ صَاحِبَهُمَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، كَأَنَّهُمَا غَمَامَتَانِ ، أَوْ غَيَابَتَانِ ، أَوْ فِرْقَانِ مِنْ طَيْرٍ صَوَافَّ . وَإِنَّ الْقُرْآنَ يَلْقَى صَاحِبَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ حِينَ يَنْشَقُّ عَنْهُ قَبْرُهُ كَالرَّجُلِ الشَّاحِبِ فَيَقُولُ : هَلْ تَعْرِفُنِي ؟ فَيَقُولُ : مَا أَعْرِفُكَ ، فَيَقُولُ : أَنَا صَاحِبُكَ الْقُرْآنُ الَّذِي أَظْمَأْتُكَ فِي الْهَوَاجِرِ ، وَأَسْهَرْتُ لَيْلَكَ ، وَإِنَّ كُلَّ تَاجِرٍ مِنْ وَرَاءِ تِجَارَتِهِ ، وَإِنَّكَ الْيَوْمَ مِنْ وَرَاءِ كُلِّ تِجَارَةٍ . فَيُعْطَى الْمُلْكَ بِيَمِينِهِ ، وَالْخُلْدَ بِشِمَالِهِ ، وَيُوضَعُ عَلَى رَأْسِهِ تَاجُ الْوَقَارِ ، وَيُكْسَى وَالِدَاهُ حُلَّتَيْنِ لَا تَقُومُ لَهُمَا الدُّنْيَا ، فَيَقُولَانِ : بِمَ كُسِينَا هَذَا ؟ فَيُقَالُ : بِأَخْذِ وَلَدِكُمَا الْقُرْآنَ . ثُمَّ يُقَالُ : اقْرَأْ ، وَاصْعَدْ فِي دَرَجِ الْجَنَّةِ ، وَغُرَفِهَا . فَهُوَ فِي صُعُودٍ مَا دَامَ يَقْرَأُ حَدْرًا كَانَ أَوْ تَرْتِيلًا " . قُلْتُ : رَوَى ابْنُ مَاجَهْ مِنْهُ طَرَفًا . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھا ہوا تھا ، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا : ” تم لوگ سورت بقرہ سیکھو ! کیونکہ اس کو سیکھنا برکت ہے اور اس کو چھوڑ دینا حسرت ہے اور باطل لوگ ( یا جادوگر ) اس کی استطاعت نہیں رکھتے ہیں “ ۔ راوی بیان کرتے ہیں : پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کچھ دیر خاموش رہے ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تم لوگ سورت بقرہ اور سورت آل عمران سیکھو ! کیونکہ یہ دونوں دو بادل ہیں ، جو قیامت کے دن اپنے پڑھنے والے پر سایہ کیے ہوئے ہوں گے ، یوں جیسے یہ دونوں بادل ہوتے ہیں ( یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے ) یا یہ صف باندھے ہوئے پرندوں کی دو قطاریں ہیں ، قیامت کے دن قرآن اپنے پڑھنے والے سے ملے گا ، جب اس شخص کو اس کی قبر سے اُٹھایا جائے گا قرآن ایک خوبصورت شکل والے شخص کی شکل میں اس کو ملے گا ، اور کہے گا : کیا تم مجھے پہچانتے ہو ؟ وہ شخص کہے گا : میں تمہیں نہیں پہچانتا ، قرآن کہے گا : میں تمہارا ساتھی وہ قرآن ہوں کہ میں نے تمہیں گرمیوں میں پیاسا رکھا اور رات کو جگائے رکھا ، جبکہ ہر شخص اپنی تجارت میں مصروف تھا ، اور آج تم ہر قسم کی تجارت سے الگ ہو ، پھر بادشاہی اس کے دائیں ہاتھ میں دی جائے گی ، اور ہمیشہ رہنا بائیں ہاتھ میں دیا جائے گا ، اور اس کے سر پر وقار کا تاج رکھا جائے گا ، اور اس کے ماں باپ کو دو حلے پہنائے جائیں گے کہ ان دونوں حلوں کی قیمت پوری دنیا بھی نہیں ہو سکتی ، وہ دونوں کہیں گے : ہمیں یہ کس وجہ سے پہنائے گئے ہیں ؟ تو انہیں بتایا جائے گا کہ تمہارے بچے کے قرآن سیکھنے کی وجہ سے ، پھر ( اس شخص سے ) یہ کہا: جائے گا : تم تلاوت شروع کرو اور جنت کے درجات اور بالا خانوں پر چڑھنا شروع کرو ، تو جب تک وہ تلاوت کرتا رہے گا ، وہ مسلسل چڑھتا رہے گا ، خواہ وہ تیزی سے تلاوت کرے یا ٹھہر ، ٹھہر کے کرے “ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ابن ماجہ نے اس روایت کا ایک حصہ نقل کیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 11633
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2302) اخرجه احمد فى المسند (348/5)»