حدیث نمبر: 11632
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - " مَنْ قَرَأَ الْقُرْآنَ فَكَأَنَّمَا اسْتُدْرِجَتِ النُّبُوَّةُ بَيْنَ جَنْبَيْهِ ، غَيْرَ أَنَّهُ لَا يُوحَى إِلَيْهِ ، وَمَنْ قَرَأَ الْقُرْآنَ فَرَأَى أَنَّ أَحَدًا أُعْطِيَ أَفْضَلَ مِمَّا أُعْطِيَ فَقَدْ عَظَّمَ مَا صَغَّرَ اللَّهُ ، وَصَغَّرَ مَا عَظَّمَ اللَّهُ ، وَلَيْسَ يَنْبَغِي لِحَامِلِ الْقُرْآنِ أَنْ يَسْفَهَ فِيمَنْ يَسْفَهُ ، أَوْ يَغْضَبَ فِيمَنْ يَغْضَبُ ، أَوْ يَحْتَدَّ فِيمَنْ يَحْتَدُّ ، وَلَكِنْ يَعْفُو ، وَيَصْفَحُ لِفَضْلِ الْقُرْآنِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ إِسْمَاعِيلُ بْنُ رَافِعٍ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جو شخص قرآن کا علم حاصل کرتا ہے ، تو گویا اس کے دونوں پہلوؤں کے درمیان نبوت ( کے فیوض و برکات ڈال دیے جاتے ہیں ) البتہ یہ ہے کہ اُس کی طرف وحی نہیں کی جاتی اور جو شخص قرآن پڑھتا ہے اور پھر یہ سمجھتا ہے کہ جو نعمت اُسے دی گئی ہے ، کسی اور کے پاس ، اُس سے زیادہ فضیلت والی نعمت ہے ، تو اس نے اس چیز کو عظیم قرار دیا ، جسے اللہ نے چھوٹا قرار دیا ہے ، اور اس چیز کو چھوٹا قرار دیا ہے ، جسے اللہ تعالیٰ نے عظمت والا قرار دیا ہے ، قرآن کے عالم کے لئے یہ مناسب نہیں ہے کہ دوسروں کی طرح بے وقوفی کا مظاہرہ کرے ، یا دوسروں کی طرح غضب کا مظاہرہ کرے ، یا کسی معاملے میں غصے کا اظہار کرے ، بلکہ اسے معاف کر دینا چاہیے اور درگزر سے کام لینا چاہیئے ، ایسا قرآن کی فضیلت کی وجہ سے کرنا چاہیے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی اسماعیل بن رافع ہے اور وہ متروک ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 11632
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً