مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب التفسير— تفسیر کے بارے میں روایات
بَابُ الْقِرَاءَاتِ . باب: قرأتوں کا بیان
وَعَنِ الْأَعْمَشِ قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ فِي قَوْلِ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - "وَأَقْوَمُ قِيلًا" قَالَ : وَأَصْدَقُ . فَقِيلَ لَهُ : إِنَّهَا تُقْرَأُ : وَأَقْوَمُ ، فَقَالَ : أَقْوَمُ وَأَصْدَقُ وَاحِدٌ . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَأَبُو يَعْلَى بِنَحْوِهِ ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : وَأَصْوَبُ قِيلًا ، وَقَالَ : إِنَّ أَقْوَمَ وَأَصْوَبَ ، وَأَهْيَأَ ، وَأَشْبَاهَ هَذَا وَاحِدٌ ، وَلَمْ يَقُلِ الْأَعْمَشُ سَمِعْتُ أَنَسًا ، وَرِجَالُ أَبِي يَعْلَى رِجَالُ الصَّحِيحِ ، وَرِجَالُ الْبَزَّارِ ثِقَاتٌ . قُلْتُ : وَقَدْ تَقَدَّمَتْ أَحَادِيثُ مِنْ هَذَا النَّوْعِ فِي سُوَرِهَا . ¤اعمش بیان کرتے ہیں : میں نے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کو اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں یہ کہتے ہوئے سنا : «وَ أَقْوَمُ قِيلًا» انہوں نے فرمایا : «واصدق» بھی ہو سکتا ہے ، اُن سے کہا: گیا : آپ تو «واقوم» پڑھتے ہیں ، انہوں نے فرمایا : ” اقوم “ اور ” اصدق“ ایک ہی مطلب رکھتے ہیں ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور امام ابویعلیٰ نے اس کی مانند نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : «و اصوب قيلا» انہوں نے یہ فرمایا کہ اقوم ، اصوب ، احیا اور اس جیسے دیگر الفاظ ایک ہی مفہوم رکھتے ہیں اور اس میں اعمش نے یہ بات نہیں کہی ہے کہ میں نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ کو سنا ، امام ابویعلیٰ کے رجال صحیح کے رجال ہیں اور امام بزار کے رجال ثقہ ہیں ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس نوعیت کی دیگر احادیث ، اس متعلقہ سورت سے متعلق باب میں گزر چکی ہیں ۔