حدیث نمبر: 115
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : أَتَى ابْنَ عُمَرَ رَجُلٌ فَقَالَ : يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، إِنَّا نُسَافِرُ فَنَلْقَى أَقْوَامًا يَقُولُونَ : لَا قَدَرَ ، قَالَ : فَإِذَا لَقِيتَ أُولَئِكَ فَأَخْبِرْهُمْ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ مِنْهُمْ بَرِيءٌ ، كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذْ أَتَاهُ رَجُلٌ حَسَنُ الْوَجْهِ ، طَيِّبُ الرِّيحِ ، نَقِيُّ الثَّوْبِ ، فَقَالَ : السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَدْنُو مِنْكَ ؟ قَالَ : " ادْنُهْ " ، فَدَنَا دَنْوَةً . قَالَ ذَلِكَ مِرَارًا حَتَّى اصْطَكَّتَا رُكْبَتَاهُ بِرُكْبَتَيِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا الْإِسْلَامُ ؟ قَالَ : " شَهَادَةُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ ، وَإِقَامُ الصَّلَاةِ ، وَإِيتَاءُ الزَّكَاةِ ، وَحَجُّ الْبَيْتِ ، وَصِيَامُ رَمَضَانَ ، وَالْغُسْلُ مِنَ الْجَنَابَةِ " . قَالَ : فَإِذَا فَعَلْتُ ذَلِكَ فَأَنَا مُسْلِمٌ ؟ قَالَ : " نَعَمْ " . قَالَ : صَدَقْتَ ، فَمَا الْإِيمَانُ ؟ قَالَ : " الْإِيمَانُ أَنْ تُؤْمِنَ بِاللَّهِ وَمَلَائِكَتِهِ وَكُتُبِهِ وَرُسُلِهِ وَالْجَنَّةِ وَالنَّارِ وَالْقَدَرِ خَيْرِهِ وَشَرِّهِ حُلْوِهِ وَمُرِّهِ مِنَ اللَّهِ " . قَالَ : " فَإِذَا فَعَلْتُ ذَلِكَ فَأَنَا مُؤْمِنٌ ؟ قَالَ : " نَعَمْ " . قَالَ : صَدَقْتَ ، فَمَا الْإِحْسَانُ ؟ قَالَ : تَعْبُدُ اللَّهَ كَأَنَّكَ تَرَاهُ فَإِنْ تَكُنْ لَا تَرَاهُ فَإِنَّهُ يَرَاكَ " . قَالَ : فَإِذَا فَعَلْتُ ذَلِكَ فَأَنَا مُحْسِنٌ ؟ قَالَ : " نَعَمْ " . قَالَ : صَدَقْتَ ، قُلْنَا : مَا رَأَيْنَا رَجُلًا [ أَحْسَنَ وَجْهًا وَلَا ] أَطْيَبَ رِيحًا وَلَا أَشَدَّ تَوْقِيرًا لِلنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَقَوْلُهُ لِلنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : صَدَقْتَ ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " عَلَيَّ بِالرَّجُلِ " ، فَقُمْنَا ، وَقُمْتُ أَنَا إِلَى طَرِيقٍ مِنْ طُرُقِ الْمَدِينَةِ فَلَمْ نَرَ شَيْئًا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " هَلْ تَدْرُونَ مَنْ هَذَا ؟ " قَالُوا : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ . قَالَ : " هَذَا جِبْرِيلُ يُعَلِّمُكُمْ مَنَاسِكَ دِينِكُمْ ، مَا جَاءَنِي فِي صُورَةٍ قَطُّ إِلَّا عَرَفْتُهُ ، إِلَّا فِي هَذِهِ الصُّورَةِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے بارے میں یہ بات منقول ہے : ” ایک شخص اُن کے پاس آیا اور بولا: اے ابوعبدالرحمن ! ہم سفر کرتے ہیں ، تو ہماری ملاقات کچھ ایسے لوگوں سے ہوتی ہے ، جو یہ کہتے ہیں : تقدیر کی کوئی حقیقت نہیں ہے ، سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا : جب تمہاری اُن سے ملاقات ہو ، تو تم انہیں بتا دینا کہ عبداللہ بن عمر کا اُن سے کوئی تعلق نہیں ہے ، ( پھر سیدنا عبداللہ بن عمر نے یہ حدیث بیان کی : ) ایک مرتبہ ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھے ، ایک شخص آپ کی خدمت میں حاضر ہوا ، اُس کا چہرہ خوبصورت تھا ، خوشبو پاکیزہ تھی ، لباس صاف ستھرا تھا ، اُس نے کہا: یا رسول اللہ ! آپ کو سلام ہو ، کیا میں آپ کے قریب آ جاؤں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : قریب آ جاؤ ! تو وہ کچھ قریب ہو گیا ، اس نے چند مرتبہ یہی بات کی ، یہاں تک کہ اُس کے گھٹنے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھٹنوں سے مل گئے ، اس نے کہا: یا رسول اللہ ! اسلام سے مراد کیا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ تعالٰی کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، اور سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں ، اور نماز قائم کرنا ، زکوۃ دینا ، بیت اللہ کا حج کرنا ، رمضان کے روزے رکھنا اور جنابت کے بعد غسل کرنا اس نے دریافت کیا : جب میں یہ کر لوں گا ، تو کیا میں مسلمان شمار ہوؤں گا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جی ہاں ! تو اس نے کہا: آپ نے ٹھیک کہا: ہے ، ایمان سے کیا مراد ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ایمان سے مراد یہ ہے کہ تم اللہ تعالٰی ، اُس کے فرشتوں ، اس کی کتابوں ، اس کے رسولوں ، جنت ، جہنم ، اچھی یا بری ، میٹھی یا کڑوی ( یعنی ہر قسم کی ) تقدیر ، اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہونے پر ایمان رکھو ، اس نے دریافت کیا : جب میں ایسا کر لوں گا ، تو کیا میں مؤمن شمار ہوؤں گا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جی ہاں ! اس نے کہا: آپ نے ٹھیک کہا: ہے احسان سے کیا مراد ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یہ کہ تم اللہ تعالی کی یوں عبادت کرو ، گویا تم اُسے دیکھ رہے ہو ، اور اگر تم اُسے نہیں دیکھ رہے ہو ، تو وہ تمہیں دیکھ رہا ہے ، اُس نے دریافت کیا : جب میں ایسا کروں گا ، تو کیا میں احسان والا شمار ہوؤں گا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جی ہاں ! اُس نے کہا: آپ نے ٹھیک کہا: ہے ۔ راوی کہتے ہیں : ہم نے سوچا ، ہم نے ایسا کوئی شخص نہیں دیکھا ، جو اس شخص سے زیادہ خوبصورت ، زیادہ پاکیزہ خوشبو والا ہو ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا زیادہ احترام کرتا ہو ، اور پھر بھی یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ کہہ رہا ہے : کہ آپ نے ٹھیک کہا: ہے ( جب وہ شخص چلا گیا ) تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اس شخص کو میرے پاس لاؤ ! ہم اُٹھے ، میں بھی اُٹھ کر مدینہ منورہ کے ایک راستے کی طرف گیا ، لیکن ہمیں کچھ نظر نہیں آیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کیا تم لوگ جانتے ہو یہ کون تھا ؟ لوگوں نے عرض کی : اللہ اور اُس کا رسول زیادہ جانتے ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یہ جبرائیل تھے ، جو تمہیں تمہارے دین کے مناسک کی تعلیم دے رہے تھے ، یہ جس بھی شکل میں میرے پاس آئے ، میں نے انہیں پہچان لیا ، البتہ اس صورت کا معاملہ مختلف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 115
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الكبير 13581»