حدیث نمبر: 1159
وَعَنْ سَعْدِ بْنِ عِمَارَةَ أَخِي بَنِي سَعْدِ بْنِ بَكْرٍ - وَكَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ - أَنَّ رَجُلًا قَالَ لَهُ : عِظْنِي فِي نَفْسِي يَرْحَمُكَ اللَّهُ . قَالَ : إِذَا أَنْتَ قُمْتَ إِلَى الصَّلَاةِ فَأَسْبِغِ الْوُضُوءَ ; فَإِنَّهُ لَا صَلَاةَ لِمَنْ لَا وُضُوءَ لَهُ ، وَلَا إِيمَانَ لِمَنْ لَا صَلَاةَ لَهُ - فَذَكَرَ الْحَدِيثَ ، وَيَأْتِي فِي الْمَوَاعِظِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعْدٍ عَنْ أَبِيهِ ، وَلَمْ أَرَ مَنْ تَرْجَمَهُمَا . ¤
محمد محی الدین

سیدنا سعد بن عمارہ رضی اللہ عنہ ، جن کا تعلق بنو سعد بن بکر سے ہے ، اور اُنہیں صحابی ہونے کا شرف حاصل ہے ، اُن کے بارے میں یہ بات منقول ہے : ایک شخص نے ان سے کہا: آپ مجھے میری ذات کے بارے میں نصیحت کیجئے ! اللہ تعالیٰ آپ پر رحم کرے ! تو انہوں نے فرمایا : جب تم نماز پڑھنے لگو ! تو اچھی طرح وضو کرو ، کیونکہ اس شخص کی نماز نہیں ہوتی ، جس کا وضو نہ ہو اور اس شخص کا ایمان نہیں ہوتا ، جس کی نماز نہ ہو “ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کے بعد انہوں نے پوری حدیث نقل کی ہے ، جو مواعظ سے متعلق باب میں آئے گی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبیداللہ بن سعد ہے ، جس نے اپنے والد سے
یہ روایت نقل کی ہے ، میں نے کسی کو ان دونوں کا ذکر کرتے ہوئے نہیں دیکھا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطهارة / حدیث: 1159
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف