مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب التفسير— تفسیر کے بارے میں روایات
29 - 91 - سُورَةُ لَمْ يَكُنْ الَّذِينَ كَفَرُوا باب: سورت بینہ کا بیان
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى عُمَرَ - رَحِمَهُ اللَّهُ - يَسْأَلُهُ ، فَجَعَلَ عُمَرُ يَنْظُرُ إِلَى رَأْسِهِ مَرَّةً ، وَإِلَى رِجْلَيْهِ أُخْرَى ، هَلْ يَرَى عَلَيْهِ مِنَ الْبُؤْسِ ؟ ثُمَّ قَالَ لَهُ عُمَرُ : كَمْ مَالُكَ ؟ قَالَ : أَرْبَعُونَ مِنَ الْإِبِلِ . قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : قُلْتُ : صَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ " لَوْ كَانَ لِابْنِ آدَمَ وَادِيَانِ مِنْ ذَهَبٍ لَابْتَغَى ثَالِثًا ، وَلَا يَمْلَأُ جَوْفَ ابْنِ آدَمَ إِلَّا التُّرَابُ ، وَيَتُوبُ اللَّهُ عَلَى مَنْ تَابَ " . فَقَالَ عُمَرُ : مَا هَذَا ؟ قُلْتُ : هَكَذَا أَقْرَأَنِيهَا أُبَيٌّ . قَالَ : فَمُرَّ بِنَا إِلَيْهِ ، قَالَ : فَجَاءَ إِلَى أُبَيٍّ ، فَقَالَ : مَا يَقُولُ هَذَا ؟ قَالَ أُبَيٌّ : هَكَذَا أَقْرَأَنِيهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : أَفَأَثْبَتَّهَا فِي الْمُصْحَفِ ؟ قَالَ : نَعَمْ . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں ایک شخص سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور ان سے ( مال وغیرہ ) مانگا ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس کا سر سے لے کر پاؤں تک بغور جائزہ لیا کہ کیا اس پر غربت کے آثار دکھائی دیتے ہیں ؟ پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس سے دریافت کیا : تمہارے پاس کتنا مال ہے ؟ اس نے جواب دیا : چالیس اونٹ ہیں ، سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں : میں نے کہا: اللہ اور اس کے رسول نے سچ فرمایا ہے ( نبی اکرم ْ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے : ) ” اگر انسان کے پاس سونے کی دو وادیاں ہوں ، تو وہ تیسری کی خواہش کرے گا ، انسان کا پیٹ صرف مٹی بھر سکتی ہے اور جو شخص توبہ کرے ، تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول کرتا ہے “ ۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : یہ کیا چیز ہے ؟ میں نے کہا: سیدنا ابی رضی اللہ عنہ نے مجھے یہ اسی طرح پڑھایا ہے ، راوی کہتے ہیں : پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ہمیں ساتھ لے کر سیدنا ابی رضی اللہ عنہ کے پاس گئے ، اور دریافت کیا : یہ کیا کہتا ہے ؟ سیدنا ابی رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اسی طرح پڑھایا ہے ، پھر انہوں نے دریافت کیا : کیا میں اسے مصحف میں نوٹ کر لوں ؟ انہوں نے جواب دیا : جی ہاں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔