مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب التفسير— تفسیر کے بارے میں روایات
29 - 91 - سُورَةُ لَمْ يَكُنْ الَّذِينَ كَفَرُوا باب: سورت بینہ کا بیان
وَفِي رِوَايَةٍ : عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ أَيْضًا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِنَّ اللَّهَ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - أَمَرَنِي أَنْ أَقْرَأَ عَلَيْكَ الْقُرْآنَ " . فَذَكَرَ نَحْوَهُ ، وَقَالَ فِيهِ : " لَوْ أَنَّ ابْنَ آدَمَ سَأَلَ وَادِيًا مِنْ مَالٍ فَأُعْطِيَهُ لَسَأَلَ ثَانِيًا ، وَلَوْ سَأَلَ ثَانِيًا فَأُعْطِيَهُ لَسَأَلَ ثَالِثًا " ، وَالْبَاقِي بِنَحْوِهِ . قُلْتُ : فِي التِّرْمِذِيِّ بَعْضُهُ ، وَفِي الصَّحِيحِ طَرَفٌ مِنْهُ . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَابْنُهُ ، وَفِيهِ عَاصِمُ ابْنُ بَهْدَلَةَ ، وَثَّقَهُ قَوْمُ وَضَعَّفَهُ آخَرُونَ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤ایک روایت میں سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ بات منقول ہے : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” بے شک اللہ تعالیٰ نے مجھے یہ حکم دیا ہے کہ میں تمہارے سامنے قرآن پڑھوں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ اس کے بعد راوی نے حسب سابق روایت کی ذکر کی ہے ، جس میں یہ الفاظ ہیں : ” اگر انسان ، مال کی ایک وادی مانگے اور وہ اُسے دیدی جائے ، تو وہ دوسری مانگے گا ، اگر وہ دوسری اسے دیدی جائے ، تو وہ تیسری مانگے گا “ ۔ باقی روایت حسب سابق ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ترمذی میں اس کا کچھ حصہ منقول ہے اور ” صحیح “ میں اس کا ایک حصہ منقول ہے ۔
یہ روایت امام أحمد اور ان کے صاحبزادے نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عاصم بن بہدلہ ہے ، جسے ایک قوم نے ثقہ قرار دیا ہے اور دوسرے لوگوں نے اسے ضعیف کہا: ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔