مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب التفسير— تفسیر کے بارے میں روایات
29 - 91 - سُورَةُ لَمْ يَكُنْ الَّذِينَ كَفَرُوا باب: سورت بینہ کا بیان
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى عُمَرَ ، فَقَالَ : أَكَلَتْنَا الضَّبُعُ ، قَالَ مِسْعَرٌ : يَعْنِي السَّنَةَ ، قَالَ : فَسَأَلَهُ عُمَرُ : مِمَّنْ أَنْتَ ؟ قَالَ : فَمَا زَالَ يَنْسُبُهُ حَتَّى عَرِفَهُ ، فَإِذَا هُوَ مُوسِرٌ ، فَقَالَ عُمَرُ : لَوْ أَنَّ لِابْنِ آدَمَ وَادٍ وَوَادِيَيْنِ لَابْتَغَى إِلَيْهِمَا ثَالِثًا ، وَلَا يَمْلَأُ جَوْفَ ابْنِ آدَمَ إِلَّا التُّرَابُ ، ثُمَّ يَتُوبُ اللَّهُ عَلَى مَنْ تَابَ . قُلْتُ : رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ غَيْرَ قَوْلِ عُمَرَ : ثُمَّ يَتُوبُ اللَّهُ عَلَى مَنْ تَابَ . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . وَرَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ . ¤سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ایک شخص سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور بولا: قحط سالی نے ہمیں نگل لیا ہے ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : تمہارا تعلق کہاں سے ہے ؟ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ مسلسل اس کی شناخت جانتے رہے ، یہاں تک کہ وہ اس کو پہچان گئے تو وہ شخص خوشحال تھا ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ” اگر انسان کے پاس ایک ، یا دو وادیاں ہوں ، تو وہ تیسری ساتھ ملانا چاہے گا ، انسان کا پیٹ صرف مٹی بھر سکتی ہے اور جو شخص توبہ کر لے ، تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول کرتا ہے “ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام ابن ماجہ نے نقل کی ہے ، تا ہم اس میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے یہ الفاظ نہیں ہیں : ” جو شخص توبہ کر لے ، تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول کرتا ہے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ، یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔