حدیث نمبر: 11508
وَعَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ اللَّهَ أَمَرَنِي أَنْ أَقْرَأَ عَلَيْكَ " . قَالَ : فَقَرَأَ عَلَيَّ : " لَمْ يَكُنِ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ وَالْمُشْرِكِينَ مُنْفَكِّينَ حَتَّى تَأْتِيَهُمُ الْبَيِّنَةُ رَسُولٌ مِنَ اللَّهِ يَتْلُو صُحُفًا مُطَهَّرَةً فِيهَا كُتُبٌ قَيِّمَةٌ وَمَا تَفَرَّقَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ إِلَّا مِنْ بَعْدِ مَا جَاءَتْهُمُ الْبَيِّنَةُ . إِنَّ الدِّينَ عِنْدَ اللَّهِ الْحَنِيفِيَّةُ غَيْرَ الْمُشْرِكَةِ وَلَا الْيَهُودِيَّةِ وَلَا النَّصْرَانِيَّةِ ، وَمَنْ يَفْعَلْ خَيْرًا فَلَنْ يُكْفَرَهُ " . قَالَ شُعْبَةُ : ثُمَّ قَرَأَ آيَاتٍ بَعْدَهَا ، ثُمَّ قَرَأَ " لَوْ كَانَ لِابْنِ آدَمَ وَادِيَانِ مِنْ مَالٍ لَسَأَلَ ثَالِثًا ، وَلَا يَمْلَأُ جَوْفَ ابْنِ آدَمَ إِلَّا التُّرَابُ " . قَالَ : ثُمَّ خَتَمَ مَا بَقِيَ مِنَ السُّورَةِ ،
محمد محی الدین

سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” بے شک اللہ تعالیٰ نے مجھے یہ حکم دیا ہے ، میں تمہارے سامنے تلاوت کروں ، راوی کہتے ہیں : پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے سامنے ( یہ آیات ) تلاوت کیں : ” اہل کتاب میں سے کفر کرنے والے لوگ اور مشرکین الگ ہونے والے نہ تھے ، یہاں تک کہ اُن کے پاس واضح نشانی آ گئی ( اور وہ نشانی ) اللہ کی طرف سے آنے والا رسول ہے ، جو پاکیزہ صحیفوں کی تلاوت کرتا ہے ، جن میں مستحکم احکام ہیں اور جن لوگوں کو کتاب دی گئی ، وہ تفرقہ کا شکار اُس کے بعد ہوئے ، جب اُن کے پاس واضح نشانی آ گئی “ ۔ بے شک اللہ تعالیٰ کے نزدیک دین وہ ہے ، جو باطل سے الگ ہو ، جس میں شرک نہ ہو ، جو یہودیت نہ ہو ، عیسائیت نہ ہو ، جو شخص بھلائی کرے گا ، تو اس بھلائی کا انکار نہیں کیا جائے گا ۔ شعبہ بیان کرتے ہیں : اس کے بعد انہوں نے مختلف باتیں بیان کیں ، پھر یہ کلمات پڑھے : ” اگر انسان کے پاس مال کی دو وادیاں ہوں ، تو وہ تیسری مانگے گا ، انسان کا پیٹ صرف مٹی بھر سکتی ہے “ ۔ اس کے بعد انہوں نے باقی رہ جانے والی سورت کی بھی تلاوت کی ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 11508
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (132/5)»