مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب التفسير— تفسیر کے بارے میں روایات
29 - 91 - سُورَةُ لَمْ يَكُنْ الَّذِينَ كَفَرُوا باب: سورت بینہ کا بیان
عَنْ أَبِي وَاقِدٍ اللَّيْثِيِّ قَالَ : كُنَّا نَأْتِي النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا نَزَلَ عَلَيْهِ الْوَحْيُ فَيُحَدِّثُنَا ، قَالَ لَنَا ذَاتَ يَوْمٍ : " إِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - قَالَ : إِنَّا أَنْزَلْنَا الْمَالَ لِإِقَامِ الصَّلَاةِ وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ ، وَلَوْ كَانَ لِابْنِ آدَمَ وَادٍ لَأَحَبَّ أَنْ يَكُونَ إِلَيْهِ ثَانٍ ، وَلَوْ كَانَ لَهُ وَادِيَانِ لَأَحَبَّ أَنْ يَكُونَ إِلَيْهِمَا ثَالِثٌ ، وَلَا يَمْلَأُ جَوْفَ ابْنِ آدَمَ إِلَّا التُّرَابُ ، ثُمَّ يَتُوبُ اللَّهُ عَلَى مَنْ تَابَ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤سیدنا ابوواقد لیثی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہوتی تھی ، پھر ہم آپ کے پاس آتے تھے تو آپ ہمیں اس بارے میں بتایا کرتے تھے ، ایک دن آپ نے ہم سے فرمایا : ” بے شک اللہ تعالیٰ نے یہ ارشاد فرمایا ہے : ہم نے نماز قائم کرنے اور زکوۃ کی ادائیگی کے لئے مال کو نازل کیا ہے اور اگر کسی انسان کے پاس ( مال کی ) ایک وادی ہو ، تو وہ یہ خواہش کرے گا کہ اس کے پاس دوسری بھی ہو ، اور اگر اس کے پاس دو ہوں ، تو وہ یہ خواہش کرے گا کہ اس کے پاس ان دونوں کے ساتھ تیسری بھی ہو ، انسان کا پیٹ صرف مٹی بھر سکتی ہے اور جو شخص توبہ کرے ، اللہ تعالیٰ اس کی توبہ کو قبول کرتا ہے “ ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔