مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب التفسير— تفسیر کے بارے میں روایات
29 - 90 - سُورَةُ إِنَّا أَنْزَلْنَاهُ باب: سورت قدر کا بیان
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهِ إِنَّا أَنْزَلْنَاهُ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ قَالَ : أُنْزِلَ الْقُرْآنُ جُمْلَةً وَاحِدَةً حَتَّى وُضِعَ فِي بَيْتِ الْعِزَّةِ فِي السَّمَاءِ الدُّنْيَا ، وَنَزَّلَهُ جِبْرِيلُ عَلَى مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِجَوَابِ كَلَامِ الْعِبَادِ وَأَعْمَالِهِمْ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَالْبَزَّارُ بِاخْتِصَارٍ ، وَرِجَالُ الْبَزَّارِ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، وَفِي إِسْنَادِ الطَّبَرَانِيِّ عَمْرُو بْنُ عَبْدِ الْغَفَّارِ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما ، اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں بیان کرتے ہیں ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ” بے شک ہم نے اسے شب قدر میں نازل کیا “ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں : قرآن ایک ساتھ نازل ہوا تھا ، یہاں تک کہ اسے آسمان دنیا میں بیت العزت میں رکھ دیا گیا ، اور پھر سیدنا جبرائیل علیہ السلام لوگوں کے کلام اور ان کے اعمال کے جواب کے حساب سے ، اس کو لے کر سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوتے رہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، امام بزار نے اسے اختصار کے ساتھ نقل کیا ہے ، امام بزار کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، امام طبرانی کی سند میں ایک راوی عمرو بن عبدالغفار ہے اور وہ ضعیف ہے ۔