مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب التفسير— تفسیر کے بارے میں روایات
29 - 87 - سُورَةُ وَالضُّحَى باب: سورت ضحیٰ کا بیان
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : عُرِضَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَا هُوَ مَفْتُوحٌ عَلَى أُمَّتِهِ [ مِنْ بَعْدِهِ ] كُفْرًا كُفْرًا ، فَسُرَّ بِذَلِكَ ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - وَلَسَوْفَ يُعْطِيكَ رَبُّكَ فَتَرْضَى فَأَعْطَاهُ اللَّهُ - تَعَالَى - فِي الْجَنَّةِ أَلْفَ قَصْرٍ ، فِي كُلِّ قَصْرٍ مَا يَنْبَغِي لَهُ مِنَ الْوِلْدَانِ وَالْخَدَمِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ،سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے وہ چیزیں پیش کی گئیں ، جو آپ کے بعد آپ کی امت کے لئے کشادہ کر دی جائیں گی ، وہ ایک ، ایک کر کے پیش کی گئیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس سے خوش ہوئے ، تو اللہ تعالی نے یہ آیت نازل کی : ” عنقریب تمہارا پروردگار تمہیں اتنا عطا کرے گا کہ تم راضی ہو جاؤ گے “ ۔ تو اللہ تعالیٰ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو جنت میں ایک ہزار محلات عطا کرے گا ، جن میں سے ہر ایک محل میں جتنے خدام اور بچے ، آپ چاہیں گے وہ آپ کو ملیں گے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔