مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب التفسير— تفسیر کے بارے میں روایات
29 - 87 - سُورَةُ وَالضُّحَى باب: سورت ضحیٰ کا بیان
عَنْ حَفْصِ بْنِ مَيْسَرَةَ الْقُرَشِيِّ قَالَ : حَدَّثَتْنِي أُمِّي عَنْ أُمِّهَا ، وَكَانَتْ خَادِمَةَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّ جَرْوًا دَخَلَ الْبَيْتَ ، وَدَخَلَ تَحْتَ السَّرِيرِ وَمَاتَ ، فَمَكَثَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَيَّامًا لَا يَنْزِلُ عَلَيْهِ الْوَحْيُ . فَقَالَ : " يَا خَوْلَةُ ، مَا حَدَثَ فِي بَيْتِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - جِبْرِيلُ لَا يَأْتِينِي ، فَهَلْ حَدَثَ فِي بَيْتِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَدَثٌ ؟ ! " . فَقُلْتُ : مَا أَتَى عَلَيْنَا يَوْمٌ خَيْرٌ مِنْ يَوْمِنَا . فَأَخَذَ بُرْدَهُ فَلَبِسَهُ وَخَرَجَ ، فَقُلْتُ : لَوْ هَيَّأْتُ الْبَيْتَ وَكَنَسْتُهُ ، فَأَهْوَيْتُ بِالْمِكْنَسَةِ تَحْتَ السَّرِيرِ ، فَإِذَا شَيْءٌ تَحْتُ ثَقِيلٌ ، فَلَمْ أَزَلْ حَتَّى أَخْرَجْتُهُ ، فَإِذَا جَرْوٌ مَيِّتٌ ، فَأَخَذْتُهُ بِيَدِي فَأَلْقَيْتُهُ خَلْفَ الدَّارِ ، فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - تُرْعَدُ لِحْيَتُهُ ، وَكَانَ إِذَا أَتَى الْوَحْيُ أَخَذَتْهُ الرِّعْدَةُ ، فَقَالَ : " يَا خَوْلَةُ ، دَثِّرِينِي " . فَأَنْزَلَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - وَالضُّحَى وَاللَّيْلِ إِذَا سَجَى مَا وَدَّعَكَ رَبُّكَ وَمَا قَلَى . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَأُمُّ حَفْصٍ لَمْ أَعْرِفْهَا . ¤حفص بن میسرہ قرشی بیان کرتے ہیں : میری والدہ نے ، اپنی والدہ کے حوالے سے
یہ روایت مجھے بیان کی ہے : اُن کی والدہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خادمہ تھیں ، وہ بیان کرتی ہیں : ایک مرتبہ ایک ( کتے کا ) پلا گھر میں داخل ہوا ، اور پلنگ کے نیچے چلا گیا ، اور وہاں مر گیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو کچھ دن ایسے گزر گئے کہ آپ پر اس دوران وحی نازل نہیں ہوئی ، آپ نے ارشاد فرمایا : اے خولہ ! تم اس بات کا جائزہ لو کہ اللہ کے رسول کے گھر میں ایسی کیا بات ہوئی ہے کہ جس کی وجہ سے جبرائیل میرے پاس نہیں آیا ، کیا اللہ کے رسول کے گھر میں کوئی نئی چیز سامنے آئی ہے ؟ میں نے عرض کی : ہمارے اس دن سے زیادہ بہتر دن تو ہم پر کبھی نہیں آیا ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی چادر اوڑھی اور تشریف لے گئے ، میں نے سوچا اگر میں گھر میں جھاڑو دوں ، اور جھاڑو پلنگ کے نیچے بھی دوں تو مناسب ہو گا ، جب میں نے جھاڑو دیا تو اس کے نیچے کوئی بوجھل چیز تھی ، میں مسلسل جھاڑو دیتی رہی ، یہاں تک کہ میں نے اسے باہر نکالا ، تو وہ مردہ پلا تھا ، میں نے اُسے اپنے ہاتھ کے ذریعے پکڑا اور اُسے دیوار کے پار پھینک دیا ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے ، تو آپ کی داڑھی مبارک پر کپکپی طاری تھی ، جب آپ پر وحی نازل ہوتی تھی ، تو آپ پر کپکپی طاری ہو جاتی تھی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے خولہ ! مجھے اوڑھنے کے لئے کچھ دو ، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی : ” اور چاشت کے وقت کی قسم ہے ، اور رات کی قسم ہے ، جب وہ پھیل جائے ، نہ تو تمہارے پروردگار نے تمہیں چھوڑا ہے ، اور نہ ہی وہ ناراض ہوا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور ام حفص نامی خاتون سے میں واقف نہیں ہوں ۔