مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب التفسير— تفسیر کے بارے میں روایات
29 - 84 - سُورَةُ لَا أُقْسِمُ باب: سورت بلد کا بیان
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهِ لَا أُقْسِمُ بِهَذَا الْبَلَدِ قَالَ : مَكَّةُ . وَأَنْتَ حِلٌّ بِهَذَا الْبَلَدِ قَالَ : مَكَّةُ . وَوَالِدٍ وَمَا وَلَدَ قَالَ : آدَمُ . لَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنْسَانَ فِي كَبَدٍ قَالَ : فِي اعْتِدَالٍ وَانْتِصَابٍ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ ، وَفِيهِ عُبَيْدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْعَطَّارُ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما ، اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں نقل کرتے ہیں ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ” میں اس شہر کی قسم اٹھاتا ہوں “ ۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں : اس سے مراد مکہ ہے ۔ ” کہ تم اس شہر میں رہتے ہو “ ۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : اس سے مراد مکہ ہے ۔ ” اور والد اور اس کی اولاد کی قسم ہے “ ۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا : اس سے مراد ، سیدنا آدم علیہ السلام ہیں ۔ ” تحقیق ہم نے انسان کو مشقت میں پیدا کیا ہے “ ۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں : یعنی معتدل صورت حال میں اور سخت صورت حال میں پیدا کیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبید بن اسحاق عطار ہے اور وہ ضعیف ہے ۔