کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: سورت بلد کا بیان
حدیث نمبر: 11492
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهِ لَا أُقْسِمُ بِهَذَا الْبَلَدِ قَالَ : مَكَّةُ . وَأَنْتَ حِلٌّ بِهَذَا الْبَلَدِ قَالَ : مَكَّةُ . وَوَالِدٍ وَمَا وَلَدَ قَالَ : آدَمُ . لَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنْسَانَ فِي كَبَدٍ قَالَ : فِي اعْتِدَالٍ وَانْتِصَابٍ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ ، وَفِيهِ عُبَيْدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْعَطَّارُ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما ، اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں نقل کرتے ہیں ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ” میں اس شہر کی قسم اٹھاتا ہوں “ ۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں : اس سے مراد مکہ ہے ۔ ” کہ تم اس شہر میں رہتے ہو “ ۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : اس سے مراد مکہ ہے ۔ ” اور والد اور اس کی اولاد کی قسم ہے “ ۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا : اس سے مراد ، سیدنا آدم علیہ السلام ہیں ۔ ” تحقیق ہم نے انسان کو مشقت میں پیدا کیا ہے “ ۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں : یعنی معتدل صورت حال میں اور سخت صورت حال میں پیدا کیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبید بن اسحاق عطار ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 11492
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (12412)»
حدیث نمبر: 11493
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ لَا أُقْسِمُ بِهَذَا الْبَلَدِ قَالَ : قَسَمُ الْقَسَمِ . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ” میں اس شہر کی قسم اٹھاتا ہوں “ ۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں : اس سے مراد قسم کی قسم ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 11493
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2287)»
حدیث نمبر: 11494
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - وَهَدَيْنَاهُ النَّجْدَيْنِ قَالَ : سَبِيلَ الْخَيْرِ وَالشَّرِّ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِإِسْنَادَيْنِ ، وَفِيهِ عَاصِمُ بْنُ أَبِي النَّجُودِ وَهُوَ ثِقَةٌ وَفِيهِ ضَعْفٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ” اور ہم نے اُسے دو راستے دکھا دیے “ ۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : یعنی بھلائی کا راستہ اور برائی کا راستہ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عاصم بن ابونجود ہے اور وہ ثقہ ہے اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 11494
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (9097)»