حدیث نمبر: 11490
عَنْ جَابِرٍ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي قَوْلِهِ - تَعَالَى - وَلَيَالٍ عَشْرٍ قَالَ : " عَشْرُ الْأَضْحَى " ، وَالشَّفْعِ وَالْوَتْرِ قَالَ : " الشَّفْعُ : يَوْمُ الْأَضْحَى ، وَالْوَتْرُ : يَوْمُ عَرَفَةَ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَأَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ عَيَّاشِ بْنِ عُقْبَةَ وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے ، اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں نقل کیا ہے ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ” اور دس راتوں کی قسم ہے “ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اس سے مراد ، ذوالج کا پہلا عشرہ ہے ۔ ” اور جفت کی قسم ہے اور طاق کی قسم ہے “ ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جنت سے مراد عیدالاضحی کا دن ہے اور طاق سے مراد ، عرفہ کا دن ہے ۔
یہ روایت امام بزار اور امام أحمد نے نقل کی ہے اور ان دونوں کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف عیاش بن عقبہ کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 11490
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح۔
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2286)»