مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب التفسير— تفسیر کے بارے میں روایات
قَوْلُهُ تَعَالَى : وَإِذَا الْمَوْؤُودَةُ سُئِلَتْ . باب: ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ اور جب زندہ دفن کر دی جانے والی لڑکی سے پوچھا جائے گا “
حدیث نمبر: 11470
وَعَنْ خَلِيفَةَ بْنِ حُصَيْنٍ أَنَّ قَيْسَ بْنَ عَاصِمٍ قَالَ لِلنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : إِنِّي وَأَدْتُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ اثْنَتَيْ عَشْرَةَ بِنْتًا أَوْ ثَلَاثَةَ عَشَرَ . فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " اعْتِقْ عَنْ كُلِّ وَاحِدَةٍ مِنْهُنَّ نَسَمَةً " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ الْحِمَّانِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤محمد محی الدین
خلیفہ بن حصین بیان کرتے ہیں : سیدنا قیس بن عاصم رضی اللہ عنہ نے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی : میں نے زمانہ جاہلیت میں اپنی بارہ ، یا شاید تیرہ بیٹیوں کو زندہ دفن کر دیا تھا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن سے فرمایا : ” تم ان میں سے ہر ایک کی طرف سے ایک جان آزاد کرو “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن عبدالحمید حمانی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔