مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب التفسير— تفسیر کے بارے میں روایات
قَوْلُهُ تَعَالَى : وَإِذَا الْمَوْؤُودَةُ سُئِلَتْ . باب: ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ اور جب زندہ دفن کر دی جانے والی لڑکی سے پوچھا جائے گا “
عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ وَسُئِلَ عَنْ قَوْلِهِ وَإِذَا الْمَوْؤُودَةُ سُئِلَتْ قَالَ : جَاءَ قَيْسُ بْنُ عَاصِمٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي قَدْ وَأَدْتُ بَنَاتٍ لِي فِي الْجَاهِلِيَّةِ ، فَقَالَ : " اعْتِقْ عَنْ كُلِّ وَاحِدَةٍ مِنْهُنَّ رَقَبَةً " . فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي صَاحِبُ إِبِلٍ ، قَالَ : " فَانْحَرْ عَنْ كُلِّ وَاحِدَةٍ مِنْهُنَّ بَدَنَةً " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُ الْبَزَّارِ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ حُسَيْنِ بْنِ مَهْدِيٍّ الْأَيْلِيِّ وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے : اُن سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں دریافت کیا گیا ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ” اور جب زندہ دفن کی جانے والی لڑکی سے سوال کیا جائے گا “ ۔ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے بتایا : ایک مرتبہ قیس بن عاصم ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور بولا: یا رسول اللہ ! میں نے زمانہ جاہلیت میں ، اپنی بیٹیوں کو زندہ دفن کر دیا تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم اُن میں سے ہر ایک کی طرف سے ایک گردن کو آزاد کرو ، اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں اونٹوں کا مالک ہوں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم ان میں سے ہر ایک کی طرف سے اونٹ قربان کرو ۔
یہ روایت امام بزار اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، امام بزار کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف حسین بن مہدی ایلی کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔