کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ اور جب زندہ دفن کر دی جانے والی لڑکی سے پوچھا جائے گا “
حدیث نمبر: 11469
عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ وَسُئِلَ عَنْ قَوْلِهِ وَإِذَا الْمَوْؤُودَةُ سُئِلَتْ قَالَ : جَاءَ قَيْسُ بْنُ عَاصِمٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي قَدْ وَأَدْتُ بَنَاتٍ لِي فِي الْجَاهِلِيَّةِ ، فَقَالَ : " اعْتِقْ عَنْ كُلِّ وَاحِدَةٍ مِنْهُنَّ رَقَبَةً " . فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي صَاحِبُ إِبِلٍ ، قَالَ : " فَانْحَرْ عَنْ كُلِّ وَاحِدَةٍ مِنْهُنَّ بَدَنَةً " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُ الْبَزَّارِ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ حُسَيْنِ بْنِ مَهْدِيٍّ الْأَيْلِيِّ وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے : اُن سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں دریافت کیا گیا ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ” اور جب زندہ دفن کی جانے والی لڑکی سے سوال کیا جائے گا “ ۔ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے بتایا : ایک مرتبہ قیس بن عاصم ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور بولا: یا رسول اللہ ! میں نے زمانہ جاہلیت میں ، اپنی بیٹیوں کو زندہ دفن کر دیا تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم اُن میں سے ہر ایک کی طرف سے ایک گردن کو آزاد کرو ، اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں اونٹوں کا مالک ہوں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم ان میں سے ہر ایک کی طرف سے اونٹ قربان کرو ۔
یہ روایت امام بزار اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، امام بزار کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف حسین بن مہدی ایلی کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 11469
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البزار فى المسند (2280) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (337/18)»
حدیث نمبر: 11470
وَعَنْ خَلِيفَةَ بْنِ حُصَيْنٍ أَنَّ قَيْسَ بْنَ عَاصِمٍ قَالَ لِلنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : إِنِّي وَأَدْتُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ اثْنَتَيْ عَشْرَةَ بِنْتًا أَوْ ثَلَاثَةَ عَشَرَ . فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " اعْتِقْ عَنْ كُلِّ وَاحِدَةٍ مِنْهُنَّ نَسَمَةً " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ الْحِمَّانِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
خلیفہ بن حصین بیان کرتے ہیں : سیدنا قیس بن عاصم رضی اللہ عنہ نے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی : میں نے زمانہ جاہلیت میں اپنی بارہ ، یا شاید تیرہ بیٹیوں کو زندہ دفن کر دیا تھا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن سے فرمایا : ” تم ان میں سے ہر ایک کی طرف سے ایک جان آزاد کرو “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن عبدالحمید حمانی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 11470
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (338/18)»