مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب التفسير— تفسیر کے بارے میں روایات
قَوْلُهُ تَعَالَى : فَإِذَا نُقِرَ فِي النَّاقُورِ . باب: ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ اور جب صور مین پھونک ماری جائے گی “
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهِ فَإِذَا نُقِرَ فِي النَّاقُورِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " كَيْفَ أَنْعَمُ وَصَاحِبُ الْقَرْنِ قَدِ الْتَقَمَ الْقَرْنَ وَحَنَى جَبْهَتَهُ يَسْتَمِعُ مَتَى يُؤْمَرُ ؟ " . فَقَالَ أَصْحَابُهُ : فَكَيْفَ نَقُولُ ؟ قَالَ : " قُولُوا : حَسْبُنَا اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ " ،سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما ، اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں بیان کرتے ہیں ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ” اور جب صور میں پھونک ماری جائے گی “ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میں کیسے مطمئن ہو سکتا ہوں ؟ جبکہ صور سے متعلق فرشتے نے ، اپنا منہ اس کے ساتھ لگایا ہوا ہے ، اور اپنی پیشانی کو جھکایا ہوا ہے اور وہ اس بات کا منتظر ہے کہ اسے کب حکم ہوتا ہے “ ۔ آپ کے اصحاب نے عرض کی : ہمیں کیا پڑھنا چاہیے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم یہ پڑھو : ﴿حَسْبُنَا اللهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ﴾ ( ہمارے لئے اللہ تعالیٰ کافی ہے اور وہ بہترین کارساز ہے ) ۔