مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الطهارة— طہارت کے بارے میں روایات
بَابُ فَضْلِ الْوُضُوءِ . باب: وضو کی فضیلت
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَتَوَضَّأُ لِلصَّلَاةِ ، فَيُمَضْمِضُ إِلَّا خَرَجَ مَعَ قَطْرِ الْمَاءِ كُلُّ سَيِّئَةٍ تَكَلَّمَ بِهَا لِسَانُهُ ، وَلَا يَسْتَنْشِقُ إِلَّا خَرَجَ مَعَ قَطْرِ الْمَاءِ كُلُّ سَيِّئَةٍ وَجَدَ رِيحَهَا بِأَنْفِهِ ، وَلَا يَغْسِلُ وَجْهَهُ إِلَّا تَنَاثَرَ مِنْ عَيْنَيْهِ مَعَ قَطْرِ الْمَاءِ كُلُّ سَيِّئَةٍ نَظَرَ إِلَيْهَا بِهِمَا ، وَلَا يَغْسِلُ شَيْئًا مِنْ يَدَيْهِ إِلَّا خَرَجَ مَعَ قَطْرِ الْمَاءِ كُلُّ سَيِّئَةٍ بَطَشَ بِهَا ، وَلَا يَغْسِلُ شَيْئًا مِنْ رِجْلَيْهِ إِلَّا خَرَجَ مَعَ قَطْرِ الْمَاءِ كُلُّ سَيِّئَةٍ مَشَى بِهِمَا إِلَيْهَا ، فَإِذَا خَرَجَ إِلَى الْمَسْجِدِ كُتِبَ لَهُ بِكُلِّ خُطْوَةٍ خَطَاهَا حَسَنَةٌ ، وَمُحِيَ بِهَا عَنْهُ سَيِّئَةٌ ، حَتَّى يَأْتِيَ مَقَامَهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَهُوَ فِي الصَّحِيحِ بِاخْتِصَارٍ ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ . ¤سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو مسلمان نماز کے لیے وضو کرتا ہے ، تو جب وہ کلی کرتا ہے ، تو پانی کے قطروں کے ساتھ اس کا ہر وہ گناہ نکل جاتا ہے ، جس کے بارے میں اس کی زبان نے کلام کیا تھا ، جب وہ ناک میں پانی ڈالتا ہے ، تو پانی کے قطروں کے ساتھ اس کا ہر وہ گناہ نکل جاتا ہے جس کی بو کو اس نے اپنی ناک کے ذریعے محسوس کیا تھا ، جب وہ اپنا چہرہ دھوتا ہے ، تو پانی کے قطروں کے ہمراہ اس کی آنکھوں سے ہر وہ گناہ نکل جاتا ہے ، جس کی طرف اس نے ان دونوں آنکھوں کے ذریعے دیکھا تھا ، جب وہ اپنے دونوں بازو دھوتا ہے ، تو پانی کے قطروں کے ہمراہ ہر وہ گناہ نکل جاتا ہے ، جس کو اس نے ہاتھ کے ذریعے پکڑا تھا ، جب وہ پاؤں دھوتا ہے ، تو پانی کے قطروں کے ہمراہ ہر وہ گناہ نکل جاتا ہے ، جس کی طرف وہ اپنے پاؤں کے ذریعے چل کر گیا تھا ، پھر جب وہ مسجد کی طرف جاتا ہے ، تو ہر ایک قدم اٹھانے پر اس کے لیے ایک نیکی نوٹ کی جاتی ہے ، اور اس کے ایک گناہ کو مٹا دیا جاتا ہے ، یہاں تک کہ وہ اپنی جگہ پر پہنچ جائے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، یہ ” صحیح “ میں اختصار کے ساتھ منقول ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔