مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الطهارة— طہارت کے بارے میں روایات
بَابُ فَضْلِ الْوُضُوءِ . باب: وضو کی فضیلت
وَعَنْ أَبِي لُبَابَةَ بْنِ عَبْدِ الْمُنْذِرِ قَالَ : سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنِ الطَّهُورِ فَقَالَ : " مَا مِنْ مُسْلِمٍ يُمَضْمِضُ فَاهُ إِلَّا غَفَرَ اللَّهُ لَهُ كُلَّ خَطِيئَةٍ أَصَابَهَا بِلِسَانِهِ ذَلِكَ الْيَوْمَ ، وَلَا يَغْسِلُ يَدَيْهِ إِلَّا غَفَرَ اللَّهُ لَهُ مَا قَدَّمَتْ يَدَاهُ ذَلِكَ الْيَوْمَ ، وَلَا يَمْسَحُ بِرَأْسِهِ إِلَّا كَانَ كَيَوْمِ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ يُوسُفُ بْنُ خَالِدٍ السَّمْتِيُّ ، وَقَدْ جَمَعُوا عَلَى ضَعْفِهِ . ¤سیدنا ابولبابہ بن عبدالمنذر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے طہارت حاصل کرنے ( یعنی وضو کے ) کے بارے میں سوال کیا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو مسلمان ( وضو کرتے ہوئے ) اپنا منہ دھوتا ہے ، تو اللہ تعالیٰ اس شخص کے ہر اس گناہ کی مغفرت کر دیتا ہے ، جس کا ارتکاب اس شخص نے اس دن میں ، اپنی زبان کے ذریعے کیا ہو اور جب آدمی اپنے بازو دھوتا ہے ، تو اللہ تعالیٰ اس شخص کے اس دن کے ان گناہوں کی مغفرت کر دیتا ہے ، جن کا ارتکاب اس کے ہاتھوں نے کیا ہو ، اور جب وہ اپنے سر پر مسح کرتا ہے ( تو گناہوں سے پاک ہونے کے حوالے سے ) وہ اُس دن کی مانند ہو جاتا ہے ، جب اس کی والدہ نے اسے جنم دیا تھا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یوسف بن خالد سمتی ہے ، جس کے ضعیف ہونے پر محدثین کا اتفاق ہے ۔