حدیث نمبر: 1146
عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَنْ بَاتَ طَاهِرًا بَاتَ فِي شِعَارِهِ مَلَكٌ ، فَلَا يَسْتَيْقِظُ مِنْ لَيْلٍ إِلَّا قَالَ الْمَلَكُ : اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِعَبْدِكَ كَمَا بَاتَ طَاهِرًا " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ مَيْمُونُ بْنُ زَيْدٍ ، قَالَ الذَّهَبِيُّ : لَيَّنَهُ أَبُو حَاتِمٍ . وَفِي إِسْنَادِ الطَّبَرَانِيِّ الْعَبَّاسُ بْنُ عُتْبَةَ ، قَالَ الذَّهَبِيُّ : يَرْوِي عَنْ عَطَاءٍ ، وَسَاقَ لَهُ هَذَا الْحَدِيثَ ، وَقَالَ : لَا يَصِحُّ حَدِيثُهُ . قُلْتُ : قَدْ رَوَاهُ سُلَيْمَانُ الْأَحْوَلُ عَنْ عَطَاءٍ ، وَهُوَ مِنْ رِجَالِ الصَّحِيحِ ، كَذَلِكَ هُوَ عِنْدَ الْبَزَّارِ ، وَأَرْجُو أَنَّهُ حَسَنُ الْإِسْنَادِ . وَقَدْ تَقَدَّمَ حَدِيثُ عَمْرِو بْنِ عَبَسَةَ فِيمَنْ يَبِيتُ طَاهِرًا فِي الْبَابِ الَّذِي قَبْلَ هَذَا ، وَلَفْظُ الطَّبَرَانِيِّ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " طَهِّرُوا هَذِهِ الْأَجْسَادَ طَهَّرَكُمُ اللَّهُ ; فَإِنَّهُ لَيْسَ عَبْدٌ يَبِيتُ طَاهِرًا إِلَّا بَاتَ مَعَهُ مَلَكٌ فِي شِعَارِهِ ، لَا يَنْقَلِبُ سَاعَةً مِنَ اللَّيْلِ إِلَّا قَالَ : اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِعَبْدِكَ ; فَإِنَّهُ بَاتَ طَاهِرًا " . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جو شخص باوضو حالت میں رات گزارتا ہے ، تو اس کے لحاف میں ایک فرشتہ بھی رات بھر رہتا ہے ، وہ شخص رات میں جس وقت بھی بیدار ہوتا ہے ، تو فرشتہ یہ کہتا ہے : اے اللہ ! تو اپنے بندے کی مغفرت کر دے ، کیونکہ اس نے باوضو حالت میں رات گزاری ہے “ ۔
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی میمون بن زید ہے ، امام ذہبی فرماتے ہیں : ابوحاتم نے اسے کمزور قرار دیا ہے ، امام طبرانی کی سند میں ایک راوی عباس بن عقبہ ہے ، امام ذہبی فرماتے ہیں : اس نے عطاء سے روایات نقل کی ہیں ، انہوں نے اس راوی کے حوالے سے یہ حدیث نقل کی ہے اور یہ بات بیان کی ہے : اس کی نقل کردہ حدیث مستند نہیں ہوتی ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت سلیمان احول نے عطاء سے نقل کی ہے ، اور وہ ” صحیح “ کے رجال میں سے ایک ہیں ، امام بزار نے
یہ روایت اسی طرح نقل کی ہے ، تو مجھے یہ امید ہے کہ یہ سند کے حوالے سے ” حسن “ ہو گی ، اس سے پہلے سیدنا عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے حدیث گزر چکی ہے ، جو اس شخص کے بارے میں ہے ، جو باوضو حالت میں رات بسر کرتا ہے ، اور یہ حدیث اس سے پہلے والے باب میں گزری ہے ، امام طبرانی کی روایت کے الفاظ یہ ہیں : ” نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اپنے جسموں کو پاک رکھا ! اللہ تعالیٰ تمہیں پاک کر دے گا ، جو شخص باوضو حالت میں رات بسر کرتا ہے ، تو اس کے ہمراہ اس کے لحاف میں ایک فرشتہ رات گزارتا ہے ، وہ شخص رات میں جس وقت بھی اٹھتا ہے ( یا پہلو بدلتا ہے ) تو وہ فرشتہ یہ کہتا ہے : اے اللہ ! تو اپنے بندے کی مغفرت کر دے ! کیونکہ اس نے باوضو حالت میں رات گزاری ہے “ ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطهارة / حدیث: 1146
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «صحيح ابن حبان كتاب الطهارة ، باب فضل الوضوء ذكر استغفار الملك للبانت متطهرا عند استيقاظه 1056 مسند عبد الله بن المبارك 65 المعجم الكبير للطبراني من اسمه عبد الله ومما اسند عبد الله بن عمر رضى الله عنهما عطاء بن ابي رباح 13403 شعب الإيمان للبيهقى فضل الوضوء 2656 الزبد والرقائق لابن المبارك باب فضل ذكر الله عز وجل 1228»