حدیث نمبر: 1143
وَعَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ : جِئْتُ فِي اثْنَيْ عَشَرَ رَاكِبًا حَتَّى حَلَلْنَا بِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ أَصْحَابِي : مَنْ يَرْعَى لَنَا إِبِلَنَا وَنَنْطَلِقُ فَنَقْتَبِسُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَإِذَا رَاحَ اقْبَسْنَاهُ مَا سَمِعْنَا ؟ فَقُلْتُ : أَنَا ، ثُمَّ قُلْتُ فِي نَفْسِي : لَعَلِّي مَغْبُونٌ ، أَيَسْمَعُ أَصْحَابِي مَا لَمْ أَسْمَعْ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . فَحَضَرْتُ يَوْمًا ، فَسَمِعْتُ رَجُلًا يَقُولُ : قَالَ نَبِيُّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ تَوَضَّأَ وُضُوءًا كَامِلًا ، ثُمَّ قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ - كَانَ مِنْ خَطِيئَتِهِ كَيَوْمِ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَهُوَ بِتَمَامِهِ فِي كِتَابِ الْإِيمَانِ تَقَدَّمَ ، وَتَقَدَّمَ الْكَلَامُ عَلَيْهِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں بارہ افراد سمیت آیا ، یہاں تک کہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ( کے شہر مبارک ) میں حاضر ہوئے میرے ساتھیوں نے کہا: کون شخص اونٹوں کی دیکھ بھال کرے گا ؟ تاکہ ہم جا کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے استفادہ کریں ، جب ہم واپس آئیں گے ، تو اُسے وہ بتا دیں گے ، جو ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا تھا ، میں نے کہا: میں ایسا کروں گا ، پھر میں نے بعد میں سوچا ، اس حوالے سے میں تو نقصان میں رہوں گا ، کیونکہ میرے ساتھی جو بات سن لیں گے ، وہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے نہیں سنی ہو گی ، ایک دن میری موجودگی میں ، میں نے ایک شخص کو سنا ، وہ بیان کر رہا تھا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” جو شخص پورا وضو کرے اور پھر نماز کے لیے کھڑا ہو جائے ، تو وہ اپنے گناہوں کے حوالے سے یوں ہو جاتا ہے ، جیسے اُس دن تھا ، جب اُس کی والدہ نے اُسے جنم دیا تھا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور یہ مکمل روایت کتاب الایمان میں گزر چکی ہے اور اس روایت پر کلام بھی گزر چکا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطهارة / حدیث: 1143
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن