مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب التفسير— تفسیر کے بارے میں روایات
قَوْلُهُ تَعَالَى : وَلَا يَعْصِينَكَ فِي مَعْرُوفٍ . باب: ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ اور وہ بھلائی کے کام میں تمہاری نافرمانی نہیں کریں گی “
وَعَنْ مُصْعَبِ بْنِ نُوحٍ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ : أَدْرَكْتُ عَجُوزًا لَنَا كَانَتْ فِيمَنْ بَايَعَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَتْ : فَأَتَيْنَاهُ يَوْمًا ، فَأَخَذَ عَلَيْنَا أَنْ لَا نَنُحْ . قَالَتِ الْعَجُوزُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ نَاسًا كَانُوا قَدْ أَسْعَدُونِي عَلَى مُصِيبَةٍ أَصَابَتْنِي ، وَإِنَّهُمْ أَصَابَتْهُمْ مُصِيبَةٌ ، وَأَنَا أُرِيدُ أَنْ أُسْعِدَهُمْ . ثُمَّ إِنَّهَا أَتَتْهُ فَبَايَعَتْهُ وَقَالَتْ : هُوَ الْمَعْرُوفُ الَّذِي قَالَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - وَلَا يَعْصِينَكَ فِي مَعْرُوفٍ . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤مصعب بن نوح انصاری بیان کرتے ہیں میں نے اپنے خاندان کی ایک بوڑھی خاتون کو پایا جو ان خواتین سے تعلق رکھتی ہیں جنہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دست اقدس پر اسلام قبول کیا تھا وہ خاتون بیان کرتی ہیں ایک مرتبہ ہم خواتین آپ کی خدمت میں حاضر ہوئیں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے یہ عہد لیا کہ ہم نوحہ نہیں کریں گی اس خاتون نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کچھ لوگوں نے ایک مصیبت واقع ہونے پر میرا ساتھ دیا تھا اب انہیں ایک مصیبت لاحق ہوئی ہے میں یہ چاہتی ہوں کہ میں بھی ان کا ساتھ دوں پھر وہ بعد میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور اس نے آپ کی بیعت کر لی اس خاتون نے یہ بات بتائی کہ یہ وہ معروف ہے جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے ان الفاظ میں کیا ہے : ” اور وہ معروف کے بارے میں تمہاری نافرمانی نہیں کریں گی “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔