مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب التفسير— تفسیر کے بارے میں روایات
قَوْلُهُ تَعَالَى : يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَتَوَلَّوْا قَوْمًا غَضِبَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ . باب: ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ اے ایمان والو ! تم اس قوم کو اپنا دوست نہ بناؤ جن پر اللہ نے غضب نازل کیا “
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ فِي قَوْلِهِ يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَتَوَلَّوْا قَوْمًا غَضِبَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ قَدْ يَئِسُوا مِنَ الْآخِرَةِ فَلَا يُؤْمِنُوا بِهَا وَلَا يُؤْجَرُوا : [ هَذَا ] الْكَافِرُ إِذَا مَاتَ وَعَايَنَ ثَوَابَهُ وَاطَّلَعَ عَلَيْهِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ عَنْ شَيْخِهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں بیان کرتے ہیں ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ” اے ایمان والو ! تم اس قوم کو اپنا دوست نہ بناؤ جن پر اللہ تعالیٰ نے غضب نازل کیا وہ آخرت سے مایوس ہو چکے ہیں “ ۔ ( سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ) یعنی وہ اس پر ایمان نہیں لائیں گے اور انہیں اجر نہیں دیا جائے گا اس سے مراد وہ کافر شخص ہے کہ جب وہ مر جائے تو وہ اپنے ثواب ( یعنی انجام اور بدلے ) کو دیکھتا ہے اور اس پر مطلع ہو جاتا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے اپنے استاد عبداللہ بن محمد بن سعد بن ابومریم کے حوالے سے نقل کی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔