مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب التفسير— تفسیر کے بارے میں روایات
قَوْلُهُ تَعَالَى : يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا جَاءَكُمُ الْمُؤْمِنَاتُ . باب: ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ اے ایمان والو ! جو مومن خواتین تمہارے پاس آئیں “
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَحْمَدَ قَالَ : هَاجَرَتْ أُمُّ كُلْثُومٍ بِنْتُ عُقْبَةَ بْنِ أَبِي مُعَيْطٍ فِي الْهُدْنَةِ ، فَخَرَجَ أَخَوَاهَا عُمَارَةُ وَالْوَلِيدُ ابْنَا عُقْبَةَ حَتَّى قَدِمَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَكَلَّمَاهُ فِي أُمِّ كُلْثُومٍ أَنْ يَرُدَّهَا إِلَيْهِمَا ، فَنَقَضَ اللَّهُ الْعَهْدَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْمُشْرِكِينَ ، خَاصَّةً فِي النِّسَاءِ ، وَمَنَعَهُنَّ أَنْ يُرْدَدْنَ إِلَى الْمُشْرِكِينَ ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - آيَةَ الِامْتِحَانِ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عِمْرَانَ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤سیدنا عبداللہ بن ابو أحمد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ام کلثوم بنت عقبہ بن ابومعیط ، جنگ کے بعد مصالحت کے عرصے کے دوران ، ہجرت کر کے آئی ، تو اُس کے دو بھائی عمارہ اور ولید ، جو دونوں عقبہ کے بیٹے ہیں ، وہ دونوں بھی نکلے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ، انہوں نے ام کلثوم کے بارے میں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بات چیت کی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس خاتون کو ان دونوں کو واپس کر دیں ، تو اللہ تعالیٰ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور مشرکین کے درمیان خواتین کے بارے میں عہد کو کالعدم قرار دیا اور خواتین کے بارے میں اس بات سے منع کر دیا کہ انہیں مشرکین کی طرف واپس بھیجا جائے ، پھر اللہ تعالیٰ نے امتحان کے حکم سے متعلق آیات نازل کیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالعزیز بن عمران ہے اور وہ ضعیف ہے ۔