مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب التفسير— تفسیر کے بارے میں روایات
قَوْلُهُ تَعَالَى : يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا جَاءَكُمُ الْمُؤْمِنَاتُ . باب: ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ اے ایمان والو ! جو مومن خواتین تمہارے پاس آئیں “
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِ اللَّهِ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - إِذَا جَاءَكُمُ الْمُؤْمِنَاتُ مُهَاجِرَاتٍ فَامْتَحِنُوهُنَّ اللَّهُ أَعْلَمُ بِإِيمَانِهِنَّ قَالَ : كَانَتِ الْمَرْأَةُ إِذَا جَاءَتِ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَلَّفَهَا عُمَرُ بِاللَّهِ مَا خَرَجَتْ رَغْبَةً بِأَرْضٍ عَنْ أَرْضٍ ، وَبِاللَّهِ مَا خَرَجَتِ الْتِمَاسَ دُنْيَا ، وَبِاللَّهِ مَا خَرَجَتْ إِلَّا حُبًّا لِلَّهِ وَلِرَسُولِهِ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ ، وَثَّقَهُ شُعْبَةُ وَالثَّوْرِيُّ ، وَضَعَّفَهُ غَيْرُهُمَا ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہا اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں بیان کرتے ہیں ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ” جب مومن خواتین ہجرت کر کے تمہارے پاس آئیں ، تو تم اُن کا امتحان ہو ! اللہ تعالیٰ اُن کے ایمان کے بارے میں زیادہ بہتر جانتا ہے “ ۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : جب ( ایسی کوئی خاتون ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوتی تھی ، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اس سے اللہ کے نام کا حلف لیتے تھے کہ وہ محض ایک علاقے سے دوسرے علاقے کی طرف منتقل ہونے کے لئے نہیں آئی ہے اور اللہ کی قسم ! وہ کسی دنیاوی مقصد کے حصول کے لئے نہیں آئی ، اللہ کی قسم ! وہ صرف اللہ اور اس کے رسول کی محبت کی خاطر ( اپنے علاقے سے ) نکلی ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی قیس بن ربیع ہے ، جسے شعبہ اور ثوری نے ثقہ قرار دیا ہے اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا: ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔