حدیث نمبر: 11407
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - جَالِسًا فِي ظِلِّ حُجْرَتِهِ ، قَدْ كَانَ يَقْلِصُ مِنْهُ الظِّلُّ ، فَقَالَ لِأَصْحَابِهِ : " يَجِيئُكُمْ رَجُلٌ يَنْظُرُ إِلَيْكُمْ بِعَيْنَيْ شَيْطَانٍ ، فَإِذَا رَأَيْتُمُوهُ فَلَا تُكَلِّمُوهُ " . قَالَ : فَجَاءَ رَجُلٌ أَزْرَقُ ، فَلَمَّا رَآهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - دَعَاهُ ، قَالَ : عَلَامَ تَشْتُمُنِي أَنْتَ وَأَصْحَابُكَ ؟ قَالَ : كَمَا أَنْتَ حَتَّى آتِيَكَ بِهِمْ . فَذَهَبَ فَجَاءَ بِهِمْ ، فَجَعَلُوا يَحْلِفُونَ بِاللَّهِ مَا قَالُوا وَلَا فَعَلُوا . وَأَنْزَلَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - يَوْمَ يَبْعَثُهُمُ اللَّهُ جَمِيعًا فَيَحْلِفُونَ لَهُ كَمَا يَحْلِفُونَ لَكُمْ إِلَى آخِرِ الْآيَةِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : فَجَعَلُوا يَحْلِفُونَ بِاللَّهِ مَا قَالُوا وَمَا فَعَلُوا حَتَّى تَجَاوَزَ عَنْهُمْ ، وَالْبَاقِي بِنَحْوِهِ ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے حجرے کے سائے میں تشریف فرما تھے ، اُس کا سایہ آپ پر پورا نہیں آ رہا تھا ، آپ نے اپنے اصحاب سے ارشاد فرمایا : تمہارے پاس ایک شخص آئے گا ، جو شیطان کی آنکھوں کے ساتھ تمہاری طرف دیکھے گا ، جب تم اسے دیکھو تو اس کے ساتھ بات چیت نہ کرنا ، راوی بیان کرتے ہیں : اس دوران نیلی آنکھوں والا ایک شخص آیا جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ملاحظہ فرمایا ، تو اسے بلایا اور آپ نے فرمایا : تم اور تمہارے ساتھی مجھے کیوں برا کہتے ہو ؟ اس نے کہا: جہاں آپ ہیں ، وہیں رہیں ، میں آپ کے پاس اُن کو لے کر آتا ہوں ، پھر وہ شخص گیا اور ان لوگوں کو لے کر آیا ، تو ان لوگوں نے اللہ کے نام پر حلف اٹھا کر یہ بات کہی کہ انہوں نے کوئی ایسی بات نہیں کہی اور کوئی ایسا کام نہیں کیا ، اُن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی : ” جب اللہ تعالیٰ ، ان سب لوگوں کو دوبارہ زندہ کرے گا ، تو وہ اللہ تعالیٰ کے سامنے بھی اُسی طرح حلف اٹھائیں گے ، جس طرح وہ تمہارے سامنے حلف اٹھاتے ہیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ یہ آیت کے آخر تک ہے ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” انہوں نے اللہ کے نام پر حلف اُٹھا کر یہ کہنا شروع کیا کہ انہوں نے کوئی بات نہیں کی اور کوئی کام نہیں کیا ، یہاں تک کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں سے درگزر کیا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ باقی روایت حسب سابق ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 11407
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (12307) اخرجه احمد فى المسند (3277 و 2407)»