کتب حدیث › مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب › باب: ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ اے ایمان والو ! جب تم رسول کے ساتھ سرگوشی میں کوئی بات کرو “
❮
❯
عَنْ سَعْدٍ - يَعْنِي ابْنَ أَبِي وَقَّاصٍ - قَالَ : وَنَزَلَتْ فِيَّ يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا نَاجَيْتُمُ الرَّسُولَ فَقَدِّمُوا بَيْنَ يَدَيْ نَجْوَاكُمْ صَدَقَةً فَقَدَّمْتُ شُعَيْرَةً ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّكَ لَزَهِيدٌ " . فَنَزَلَتِ الْآيَةُ الْأُخْرَى أَأَشْفَقْتُمْ أَنْ تُقَدِّمُوا بَيْنَ يَدَيْ نَجْوَاكُمْ صَدَقَاتٍ الْآيَةَ كُلَّهَا .
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي حَدِيثٍ طَوِيلٍ فِي حَدِيثِ الصَّحِيحِ : نَزَلَ فِي ثَلَاثِ آيَاتٍ ، وَفِيهِ سَلَمَةُ بْنُ الْفَضْلِ الْأَبْرَشُ ، وَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ وَغَيْرُهُ ، وَضَعَّفَهُ الْبُخَارِيُّ وَغَيْرُهُ .
محمد محی الدین
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : یہ آیت میرے بارے میں نازل ہوئی تھی : ” اے ایمان والو ! جب تم رسول کے ساتھ سرگوشی میں کوئی بات کرو ، تو اپنی سرگوشی سے پہلے کوئی نذر پیش کرو “ تو میں نے ’ جو ، پیش کیے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم تو بہت تھوڑا دینے والے ہو ، تو دوسری آیت نازل ہوئی : ” کیا تم اس بات سے ڈر گئے کہ اپنی سرگوشی سے پہلے کوئی نذر پیش کرو ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ یہ مکمل آیت ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے ایک طویل حدیث میں نقل کی ہے ، اور صحیح کی حدیث میں یہ مذکور ہے کہ میرے بارے میں تین آیات نازل ہوئی تھیں ۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی سلمہ بن فضل ابرش ہے ، جسے یحییٰ بن معین اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے ، امام بخاری رحمہ اللہ اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 11406
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (331) اخرجه احمد فى المسند (185/1) ، أخرجه المعجم الكبير للطبراني برقم: 331»
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - جَالِسًا فِي ظِلِّ حُجْرَتِهِ ، قَدْ كَانَ يَقْلِصُ مِنْهُ الظِّلُّ ، فَقَالَ لِأَصْحَابِهِ : " يَجِيئُكُمْ رَجُلٌ يَنْظُرُ إِلَيْكُمْ بِعَيْنَيْ شَيْطَانٍ ، فَإِذَا رَأَيْتُمُوهُ فَلَا تُكَلِّمُوهُ " . قَالَ : فَجَاءَ رَجُلٌ أَزْرَقُ ، فَلَمَّا رَآهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - دَعَاهُ ، قَالَ : عَلَامَ تَشْتُمُنِي أَنْتَ وَأَصْحَابُكَ ؟ قَالَ : كَمَا أَنْتَ حَتَّى آتِيَكَ بِهِمْ . فَذَهَبَ فَجَاءَ بِهِمْ ، فَجَعَلُوا يَحْلِفُونَ بِاللَّهِ مَا قَالُوا وَلَا فَعَلُوا . وَأَنْزَلَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - يَوْمَ يَبْعَثُهُمُ اللَّهُ جَمِيعًا فَيَحْلِفُونَ لَهُ كَمَا يَحْلِفُونَ لَكُمْ إِلَى آخِرِ الْآيَةِ .
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : فَجَعَلُوا يَحْلِفُونَ بِاللَّهِ مَا قَالُوا وَمَا فَعَلُوا حَتَّى تَجَاوَزَ عَنْهُمْ ، وَالْبَاقِي بِنَحْوِهِ
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے حجرے کے سائے میں تشریف فرما تھے ، اُس کا سایہ آپ پر پورا نہیں آ رہا تھا ، آپ نے اپنے اصحاب سے ارشاد فرمایا : تمہارے پاس ایک شخص آئے گا ، جو شیطان کی آنکھوں کے ساتھ تمہاری طرف دیکھے گا ، جب تم اسے دیکھو تو اس کے ساتھ بات چیت نہ کرنا ، راوی بیان کرتے ہیں : اس دوران نیلی آنکھوں والا ایک شخص آیا جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ملاحظہ فرمایا ، تو اسے بلایا اور آپ نے فرمایا : تم اور تمہارے ساتھی مجھے کیوں برا کہتے ہو ؟ اس نے کہا: جہاں آپ ہیں ، وہیں رہیں ، میں آپ کے پاس اُن کو لے کر آتا ہوں ، پھر وہ شخص گیا اور ان لوگوں کو لے کر آیا ، تو ان لوگوں نے اللہ کے نام پر حلف اٹھا کر یہ بات کہی کہ انہوں نے کوئی ایسی بات نہیں کہی اور کوئی ایسا کام نہیں کیا ، اُن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی : ” جب اللہ تعالیٰ ، ان سب لوگوں کو دوبارہ زندہ کرے گا ، تو وہ اللہ تعالیٰ کے سامنے بھی اُسی طرح حلف اٹھائیں گے ، جس طرح وہ تمہارے سامنے حلف اٹھاتے ہیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ یہ آیت کے آخر تک ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” انہوں نے اللہ کے نام پر حلف اُٹھا کر یہ کہنا شروع کیا کہ انہوں نے کوئی بات نہیں کی اور کوئی کام نہیں کیا ، یہاں تک کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں سے درگزر کیا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ باقی روایت حسب سابق ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 11407
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (12307) اخرجه احمد فى المسند (3277 و 2407) ، أخرجه مسند أحمد برقم: 2148، 3267»
قَالَ : فَدَخَلَ رَجُلٌ أَزْرَقُ ، فَقَالَ : يَا مُحَمَّدُ ، عَلَامَ تَسُبُّنِي أَوْ تَشْتُمُنِي أَوْ نَحْوَ هَذَا ؟ قَالَ : وَجَعَلَ يَحْلِفُ . قَالَ : وَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ فِي الْمُجَادَلَةِ وَيَحْلِفُونَ عَلَى الْكَذِبِ وَهُمْ يَعْلَمُونَ وَالْآيَةُ الْأُخْرَى .
رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ ، وَرِجَالُ الْجَمِيعِ رِجَالُ الصَّحِيحِ .
محمد محی الدین
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ” تمہارے سامنے ایک شخص آئے گا ، جو شیطان کی آنکھوں کے ذریعے دیکھے گا ، راوی کہتے ہیں : تو نیلی آنکھوں والا ایک شخص آیا اور بولا: اے سیدنا محمد ! آپ کس بنیاد پر مجھے برا کہتے ہیں ، اور مجھ پر تنقید کرتے ہیں ؟ یا اس کی مانند کوئی کلمات کہے ، راوی بیان کرتے ہیں : پھر اس نے حلف اٹھانا شروع کر دیا ، راوی بیان کرتے ہیں : تو سورت مجادلہ کی یہ آیت نازل ہوئی : ” وہ لوگ جانتے بوجھتے ہوئے ، جھوٹا حلف اٹھاتے ہیں “ ۔ اور دوسری آیت بھی نازل ہوئی ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام بزار نے نقل کی ہے ان تمام روایات کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 11408
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2270) اخرجه احمد فى المسند (2147)»