حدیث نمبر: 11406
عَنْ سَعْدٍ - يَعْنِي ابْنَ أَبِي وَقَّاصٍ - قَالَ : وَنَزَلَتْ فِيَّ يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا نَاجَيْتُمُ الرَّسُولَ فَقَدِّمُوا بَيْنَ يَدَيْ نَجْوَاكُمْ صَدَقَةً فَقَدَّمْتُ شُعَيْرَةً ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّكَ لَزَهِيدٌ " . فَنَزَلَتِ الْآيَةُ الْأُخْرَى أَأَشْفَقْتُمْ أَنْ تُقَدِّمُوا بَيْنَ يَدَيْ نَجْوَاكُمْ صَدَقَاتٍ الْآيَةَ كُلَّهَا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي حَدِيثٍ طَوِيلٍ فِي حَدِيثِ الصَّحِيحِ : نَزَلَ فِي ثَلَاثِ آيَاتٍ ، وَفِيهِ سَلَمَةُ بْنُ الْفَضْلِ الْأَبْرَشُ ، وَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ وَغَيْرُهُ ، وَضَعَّفَهُ الْبُخَارِيُّ وَغَيْرُهُ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : یہ آیت میرے بارے میں نازل ہوئی تھی : ” اے ایمان والو ! جب تم رسول کے ساتھ سرگوشی میں کوئی بات کرو ، تو اپنی سرگوشی سے پہلے کوئی نذر پیش کرو “ تو میں نے ’ جو ، پیش کیے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم دنیا سے رغبت ہو ، تو دوسری آیت نازل ہوئی : ” کیا تم اس بات سے ڈر گئے کہ اپنی سرگوشی سے پہلے کوئی نذر پیش کرو ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ یہ مکمل آیت ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے مکمل حدیث میں نقل کی ہے ، جو صحیح حدیث ہے ، جس میں یہ مذکور ہے کہ میرے بارے میں تین آیات نازل ہوئی تھیں ۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی سلمہ بن فضل ابرش ہے ، جسے یحییٰ بن معین اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے ، امام بخاری رحمہ اللہ اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 11406
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (331) اخرجه احمد فى المسند (185/1)»