مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب التفسير— تفسیر کے بارے میں روایات
قَوْلُهُ تَعَالَى : يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا نَاجَيْتُمُ الرَّسُولَ . باب: ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ اے ایمان والو ! جب تم رسول کے ساتھ سرگوشی میں کوئی بات کرو “
عَنْ سَعْدٍ - يَعْنِي ابْنَ أَبِي وَقَّاصٍ - قَالَ : وَنَزَلَتْ فِيَّ يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا نَاجَيْتُمُ الرَّسُولَ فَقَدِّمُوا بَيْنَ يَدَيْ نَجْوَاكُمْ صَدَقَةً فَقَدَّمْتُ شُعَيْرَةً ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّكَ لَزَهِيدٌ " . فَنَزَلَتِ الْآيَةُ الْأُخْرَى أَأَشْفَقْتُمْ أَنْ تُقَدِّمُوا بَيْنَ يَدَيْ نَجْوَاكُمْ صَدَقَاتٍ الْآيَةَ كُلَّهَا .
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي حَدِيثٍ طَوِيلٍ فِي حَدِيثِ الصَّحِيحِ : نَزَلَ فِي ثَلَاثِ آيَاتٍ ، وَفِيهِ سَلَمَةُ بْنُ الْفَضْلِ الْأَبْرَشُ ، وَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ وَغَيْرُهُ ، وَضَعَّفَهُ الْبُخَارِيُّ وَغَيْرُهُ .
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : یہ آیت میرے بارے میں نازل ہوئی تھی : ” اے ایمان والو ! جب تم رسول کے ساتھ سرگوشی میں کوئی بات کرو ، تو اپنی سرگوشی سے پہلے کوئی نذر پیش کرو “ تو میں نے ’ جو ، پیش کیے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم تو بہت تھوڑا دینے والے ہو ، تو دوسری آیت نازل ہوئی : ” کیا تم اس بات سے ڈر گئے کہ اپنی سرگوشی سے پہلے کوئی نذر پیش کرو ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ یہ مکمل آیت ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے ایک طویل حدیث میں نقل کی ہے ، اور صحیح کی حدیث میں یہ مذکور ہے کہ میرے بارے میں تین آیات نازل ہوئی تھیں ۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی سلمہ بن فضل ابرش ہے ، جسے یحییٰ بن معین اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے ، امام بخاری رحمہ اللہ اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔