مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب التفسير— تفسیر کے بارے میں روایات
قَوْلُهُ تَعَالَى : يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا نَاجَيْتُمُ الرَّسُولَ . باب: ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ اے ایمان والو ! جب تم رسول کے ساتھ سرگوشی میں کوئی بات کرو “
حدیث نمبر: 11408
قَالَ : فَدَخَلَ رَجُلٌ أَزْرَقُ ، فَقَالَ : يَا مُحَمَّدُ ، عَلَامَ تَسُبُّنِي أَوْ تَشْتُمُنِي أَوْ نَحْوَ هَذَا ؟ قَالَ : وَجَعَلَ يَحْلِفُ . قَالَ : وَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ فِي الْمُجَادَلَةِ وَيَحْلِفُونَ عَلَى الْكَذِبِ وَهُمْ يَعْلَمُونَ وَالْآيَةُ الْأُخْرَى . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ ، وَرِجَالُ الْجَمِيعِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤محمد محی الدین
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ” تمہارے سامنے ایک شخص آئے گا ، جو شیطان کی آنکھوں کے ذریعے دیکھے گا ، راوی کہتے ہیں : تو نیلی آنکھوں والا ایک شخص آیا اور بولا: اے سیدنا محمد ! آپ کس بنیاد پر مجھے برا کہتے ہیں ، اور مجھ پر تنقید کرتے ہیں ؟ یا اس کی مانند کوئی کلمات کہے ، راوی بیان کرتے ہیں : پھر اس نے حلف اٹھانا شروع کر دیا ، راوی بیان کرتے ہیں : تو سورت مجادلہ کی یہ آیت نازل ہوئی : ” وہ لوگ جانتے بوجھتے ہوئے ، جھوٹا حلف اٹھاتے ہیں “ ۔ اور دوسری آیت بھی نازل ہوئی ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام بزار نے نقل کی ہے ان تمام روایات کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔