حدیث نمبر: 11405
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّ الْيَهُودَ كَانُوا يَقُولُونَ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : سَامٌ عَلَيْكُمْ ، ثُمَّ يَقُولُونَ فِي أَنْفُسِهِمْ : ( لَوْلَا يُعَذِّبُنَا اللَّهُ بِمَا نَقُولُ ) ، فَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ وَإِذَا جَاؤُوكَ حَيَّوْكَ بِمَا لَمْ يُحَيِّكَ بِهِ اللَّهُ إِلَى آخِرِ الْآيَةِ . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَإِسْنَادُهُ جَيِّدٌ لِأَنَّ حَمَّادًا سَمِعَ مِنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ فِي حَالَةِ الصِّحَّةِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : یہودی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ کہا: کرتے تھے : سام علیکم ( یعنی آپ کو موت آئے ) پھر وہ دل میں یہ کہتے تھے : ’ ہم جو کہتے ہیں ، اس کے حوالے سے اللہ تعالیٰ ہمیں عذاب کیوں نہیں دیتا ؟ تو اس بارے میں یہ آیت نازل ہوئی ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ” اور جب وہ تمہارے پاس آتے ہیں ، تو تمہیں اُن ( نامناسب ) کلمات کے ذریعے سلام کرتے ہیں ، جن ( کلمات ) کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے تمہیں سلام نہیں کیا “ ۔ یہ آیت کے آخر تک ہے ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام بزار اور امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند عمدہ ہے ، کیونکہ حماد نے صحت کے دوران عطاء بن سائب سے سماع کیا تھا ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 11405
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ جید
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2271) اخرجه احمد فى المسند (6589)»