حدیث نمبر: 11356
وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - انْصَرَفَ إِلَى بَيْتِهَا فَصَلَّى فِيهِ رَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ ، فَأَرْسَلَتْ عَائِشَةُ إِلَى أُمِّ سَلَمَةَ : مَا هَذِهِ الصَّلَاةُ الَّتِي صَلَّاهَا النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي بَيْتِكِ ؟ فَقَالَتْ : إِنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يُصَلِّي بَعْدَ الظُّهْرِ رَكْعَتَيْنِ ، فَقَدِمَ عَلَيْهِ وَفْدُ بَنِي الْمُصْطَلِقِ فِيمَا صَنَعَ بِهِمْ عَامِلُهُمُ الْوَلِيدُ بْنُ عُقْبَةَ ، فَلَمْ يَزَالُوا يَعْتَذِرُونَ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَتَّى جَاءَ الْمُؤَذِّنُ يَدْعُوهُ إِلَى صَلَاةِ الْعَصْرِ ، فَصَلَّى الْمَكْتُوبَةَ ثُمَّ صَلَّى عِنْدِي فِي بَيْتِي تِلْكَ الرَّكْعَتَيْنِ ، مَا صَلَّاهُمَا قَبْلُ وَلَا بَعْدُ . ¤
محمد محی الدین

سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اُن کے گھر واپس تشریف لائے ، آپ نے عصر کے بعد ان کے گھر میں دو رکعت ادا کیں ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کو پیغام بھیج کر دریافت کیا : یہ کون سی نماز تھی ؟ جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کے گھر میں ادا کی ہے ، تو سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے بتایا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ظہر کے بعد دو رکعت ( سنتیں ) ادا کیا کرتے تھے ، بنو مصطلق کا وفد آپ کی خدمت میں حاضر ہوا ، اور عامل ( یعنی زکوۃ کی وصولی کے نگران شخص ) ولید بن عقبہ نے ان کے ساتھ جو کیا تھا ، اُس سلسلے میں وہ لوگ حاضر ہوئے تھے ، اور وہ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے مسلسل معذرت پیش کرتے رہے ، یہاں تک کہ مؤذن آیا اور اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو عصر کی نماز کے لئے بلا لیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرض نماز ادا کر لی ، پھر آپ نے میرے گھر میں ، میرے ہاں وہ دو رکعت ادا کیں ( جو آپ ظہر کے بعد ادا نہیں کر پائے تھے ) آپ نے اُس سے پہلے ، یا اُس کے بعد یہ دو رکعت کبھی ادا نہیں کی ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 11356
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (401/23)»