مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب التفسير— تفسیر کے بارے میں روایات
قَوْلُهُ تَعَالَى : يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنْ جَاءَكُمْ فَاسِقٌ بِنَبَإٍ فَتَبَيَّنُوا . باب: ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ اے ایمان والو ! جب کوئی فاسق شخص تمہارے پاس کوئی اطلاع لے کر آئے ، تو تم تحقیق کر لیا کرو “
وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّهُ نَزَلَ فِي بَنِي الْمُصْطَلِقِ فِيمَا صَنَعَ بِهِمْ عَامِلُهُمُ الْوَلِيدُ بْنُ عُقْبَةَ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنْ جَاءَكُمْ فَاسِقٌ بِنَبَإٍ فَتَبَيَّنُوا الْآيَةَ ، قَالَتْ : وَكَانَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَعَثَهُ إِلَيْهِمْ يُصَدِّقُ أَمْوَالَهُمْ ، فَلَمَّا سَمِعُوا بِهِ أَقْبَلَ رَكْبٌ مِنْهُمْ ، فَقَالُوا : نَسِيرُ مَعَ رَسُولِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَنَحْمِلُهُ . فَلَمَّا سَمِعَ بِذَلِكَ ظَنَّ أَنَّهُمْ سَارُوا إِلَيْهِ لِيَقْتُلُوهُ ، فَرَجَعَ فَقَالَ : إِنَّ بَنِي الْمُصْطَلِقِ مَنَعُوا صَدَقَاتِهِمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ . وَأَقْبَلَ الْقَوْمُ حَتَّى قَدِمُوا الْمَدِينَةَ ، وَصَفُّوا وَرَاءَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي الصَّفِّ ، فَلَمَّا قَضَى الصَّلَاةَ انْصَرَفُوا فَقَالُوا : إِنَّا نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ غَضَبِ اللَّهِ وَغَضَبِ رَسُولِهِ ، سَمِعْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ بِرَسُولِكَ الَّذِي أَرْسَلْتَ يُصَدِّقُ أَمْوَالَنَا فَسُرِرْنَا بِذَلِكَ وَقَرَّتْ بِهِ أَعْيُنُنَا ، وَأَرَدْنَا أَنْ نَلْقَاهُ وَنَسِيرَ مَعَ رَسُولِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَسَمِعْنَا أَنَّهُ رَجَعَ ، فَحَسِبْنَا أَنْ يَكُونَ رَدَّهُ غَضَبٌ مِنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ عَلَيْنَا ، فَلَمْ يَزَالُوا يَعْتَذِرُونَ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَتَّى نَزَلَتْ فِيهِمْ هَذِهِ الْآيَةُ . قُلْتُ : فِي الصَّحِيحِ مِنْهُ مَا يَتَعَلَّقُ بِالرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ فَقَطْ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : یہ آیت بنو مصطلق کے بارے میں نازل ہوئی تھی ، جو ان کے زکوۃ کی وصولی کے نگران ، ولید بن عقبہ کے ، اُن لوگوں کے ساتھ طرز عمل کے بارے میں ہے ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ” اے ایمان والو ! اگر کوئی فاسق شخص کوئی اطلاع لے کر تمہارے پاس آئے تو تم تحقیق کر لیا کرو “ ۔ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کی طرف ولید بن عقبہ کو بھیجا ، تاکہ وہ ان لوگوں کے اموال کی زكوة وصول کرے ، جب ان لوگوں نے اس کی آمد کے بارے میں سنا ، تو کچھ شہسوار آ گئے ان لوگوں نے کہا: کہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بھیجے ہوئے فرد کے ساتھ سفر کریں گے اور اس کو سواری فراہم کریں گے ، جب ولید نے ( ان کی آمد کی آواز ) سنی ، تو وہ یہ سمجھا کہ شاید یہ لوگ اس کے پاس اسے قتل کرنے کے لئے آ رہے ہیں ، تو وہ واپس چلا گیا ، اس نے بتایا : یا رسول اللہ ! کہ بنو مصطلق کے لوگوں نے زکوۃ دینے سے انکار کر دیا ہے ، اس قوم کے لوگ مدینہ منورہ آ گئے انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے ایک صف بنا لی ( اور نماز ادا کی ) جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز مکمل کی ، تو وہ لوگ بھی نماز ختم کر کے آئے اور انہوں نے عرض کی : ہم اللہ کے غضب اور اس کے رسول کے غضب سے ، اللہ کی پناہ مانگتے ہیں ، یا رسول اللہ ! ہمیں آپ کے نمائندے کے بارے میں پتہ چلا کہ جس کو آپ نے بھجوایا ہے ، وہ ہمارے اموال کی زکوۃ وصول کرے گا ، تو ہم اس بات پر خوش ہوئے اور اس حوالے سے ہماری آنکھیں ٹھنڈی ہوئیں ، ہم نے اس سے ملنے کا ارادہ کیا ، تاکہ ہم اللہ کے رسول کے نمائندے کے ساتھ چلیں ، تو ہمیں یہ پتہ چلا کہ وہ واپس چلا گیا ہے ، ہمیں یہ اندیشہ ہوا کہ شاید اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے ہم پر کسی غضب کی وجہ سے یہ واپسی ہوئی ہے ، پھر وہ لوگ مسلسل نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے معذرت پیش کرتے رہے ، یہاں تک کہ ان لوگوں کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ” صحیح “ میں اس میں سے صرف وہ حصہ منقول ہے ، جو عصر کے بعد دو رکعت ادا کرنے سے متعلق ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن عبیدہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔