حدیث نمبر: 11355
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ : بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْوَلِيدَ بْنَ عُقْبَةَ إِلَى بَنِي وَلِيعَةَ ، وَكَانَ بَيْنَهُمْ شَحْنَاءُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ ، فَلَمَّا بَلَغَ بَنِي وَلِيعَةَ اسْتَقْبَلُوهُ لِيَنْظُرُوا مَا فِي نَفْسِهِ ، فَخَشِيَ الْقَوْمَ فَرَجَعَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : إِنَّ بَنِي وَلِيعَةَ أَرَادُوا قَتْلِي وَمَنَعُونِي الصَّدَقَةَ ، فَلَمَّا بَلَغَ بَنِي وَلِيعَةَ الَّذِي قَالَ الْوَلِيدُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَتَوْا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، لَقَدْ كَذَبَ الْوَلِيدُ ، وَلَكِنْ كَانَ بَيْنَنَا وَبَيْنَهُ شَحْنَاءُ فَخَشِينَا أَنْ يُعَاقِبَنَا بِالَّذِي كَانَ بَيْنَنَا . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَيَنْتَهِيَنَّ بَنُو وَلِيعَةَ أَوْ لَأَبْعَثَنَّ إِلَيْهِمْ رَجُلًا كَنَفْسِي ، يَقْتُلُ مُقَاتِلَتَهُمْ وَيَسْبِي ذَرَارِيَّهُمْ وَهُوَ هَذَا " ، ثُمَّ ضَرَبَ بِيَدِهِ عَلَى كَتِفِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ : وَأَنْزَلَ اللَّهُ فِي الْوَلِيدِ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنْ جَاءَكُمْ فَاسِقٌ بِنَبَإٍ الْآيَةَ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْقُدُّوسِ التَّمِيمِيُّ وَقَدْ ضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ وَوَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ولید بن عقبہ کو بنو ولیعہ کی طرف بھیجا ان لوگوں کے درمیان زمانہ جاہلیت سے دشمنی چلی آ رہی تھی ، جب بنو ولیعہ کو اس بات کا پتہ چلا ، تو انہوں نے ولید بن عقبہ کا استقبال کیا ، تاکہ اس بات کا جائزہ لیں کہ اس کے من میں کیا ہے ؟ تو ولید ان لوگوں سے ڈر گیا ، وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس واپس گیا اور بولا: بنو ولیعہ نے مجھے قتل کرنے کا ارادہ کیا ہے اور مجھے زکوۃ دینے سے انکار بھی کر دیا ہے ، جب بنو ولیعہ کو اس بات کا پتہ چلا ، جو ولید نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کی تھی ، تو وہ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ولید نے غلط بیانی کی ہے ، ہمارے اور اس کے درمیان زمانہ جاہلیت میں دشمنی چلی آ رہی تھی ، ہمیں یہ اندیشہ ہوا کہ ہمارے درمیان جو پہلے کی دشمنی ہے ، کہیں یہ اس حوالے سے ہمیں نقصان نہ پہنچائے ، ( اس سے پہلے ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تھا : ” یا تو بنو ولیعہ باز آ جائیں گے ، یا میں ان لوگوں کی طرف ایسے شخص کو بھیجوں گا ، جو میری مانند ہو گا ، وہ ان کے جنگجو لوگوں کو قتل کر دے گا اور بال بچوں کو قیدی بنا لے گا اور وہ یہ شخص ہے “ ۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دست مبارک سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ کے کندھے پر مارا تھا ۔ راوی بیان کرتے ہیں : یہ آیت ولید کے بارے میں نازل ہوئی تھی : ” اے ایمان والو ! اگر کوئی فاسق شخص ، کوئی اطلاع لے کر تمہارے پاس آئے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن عبدالقدوس تمیمی ہے ، جسے جمہور نے ضعیف قرار دیا ہے اور ابن حبان نے اسے ثقہ کہا: ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 11355
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف