مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب التفسير— تفسیر کے بارے میں روایات
قَوْلُهُ تَعَالَى : يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنْ جَاءَكُمْ فَاسِقٌ بِنَبَإٍ فَتَبَيَّنُوا . باب: ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ اے ایمان والو ! جب کوئی فاسق شخص تمہارے پاس کوئی اطلاع لے کر آئے ، تو تم تحقیق کر لیا کرو “
حدیث نمبر: 11354
وَفِي رِوَايَةٍ : عَنْ عَلْقَمَةَ أَيْضًا : أَنَّهُ كَانَ فِي بَنِي عَبْدِ الْمُصْطَلِقِ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي أَمْرِ الْوَلِيدِ بْنِ عُقْبَةَ ، وَأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " انْصَرِفُوا غَيْرَ مَحْبُوسِينَ وَلَا مَحْصُورِينَ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِإِسْنَادَيْنِ ، فِي أَحَدِهِمَا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤محمد محی الدین
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : علقمہ بیان کرتے ہیں : ولید بن عقبہ کے معاملے میں بنو مصطلق کا جو وفد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تھا ، وہ اُس میں شامل تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تھا : ” تم لوگ واپس چلے جاؤ ! ایسی حالت میں کہ نہ تمہیں محسوس کیا گیا ہو ، اور نہ ہی تمہیں محصور کیا گیا ہو “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ، جن میں سے ایک سند میں ایک راوی یعقوب بن حمید بن کاسب ہے جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے اور جمہور نے اُسے ضعیف کہا: ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔