حدیث نمبر: 11353
وَعَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ نَاجِيَةَ قَالَ : بَعَثَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْوَلِيدَ بْنَ عُقْبَةَ بْنِ أَبِي مُعَيْطٍ يُصَدِّقُ أَمْوَالَنَا ، فَسَارَ حَتَّى إِذَا كَانَ قَرِيبًا مِنَّا ، وَذَلِكَ بَعْدَ وَقْعَةِ الْمُرَيْسِيعِ ، فَرَجَعَ ، فَرَكِبْتُ فِي أَثَرِهِ ، فَأَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَتَيْتُ قَوْمًا فِي جَاهِلِيَّتِهِمْ ، أَخَذُوا اللِّبَاسَ وَمَنَعُوا الصَّدَقَةَ . فَلَمْ يُغَيِّرِ [ ذَلِكَ ] النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَتَّى نَزَلَتِ الْآيَةُ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنْ جَاءَكُمْ فَاسِقٌ بِنَبَإٍ الْآيَةَ . فَأَتَى الْمُصْطَلِقُونَ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَثَرَ الْوَلِيدِ بِطَائِفَةٍ مِنْ صَدَقَاتِهِمْ يَسُوقُونَهَا وَبِنَفَقَاتٍ يَحْمِلُونَهَا ، فَذَكَرُوا ذَلِكَ لَهُ وَأَنَّهُمْ خَرَجُوا يَطْلُبُونَ الْوَلِيدَ بِصَدَقَاتِهِمْ فَلَمْ يَجِدُوهُ ، فَدَفَعُوا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَا كَانَ مَعَهُمْ ، قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، بَلَغَنَا مَخْرَجُ رَسُولِكَ فَسُرِرْنَا بِذَلِكَ ، وَكُنَّا نَتَلَقَّاهُ فَبَلَغَنَا رَجْعَتُهُ فَخِفْنَا أَنْ يَكُونَ ذَلِكَ مِنْ سُخْطٍ عَلَيْنَا ، وَعَرَضُوا عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ يَشْتَرُوا مِنْهُ مَا بَقِيَ ، وَقَبِلَ مِنْهُمُ الْفَرَائِضَ وَقَالَ : " ارْجِعُوا بِنَفَقَاتِكُمْ ، لَا نَبِيعُ شَيْئًا مِنَ الصَّدَقَاتِ حَتَّى نَقْبِضَهُ " . فَرَجَعُوا إِلَى أَهْلِيهِمْ ، وَبَعَثَ إِلَيْهِمْ مَنْ يَقْبِضُ بَقِيَّةَ صَدَقَاتِهِمْ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا علقمہ بن ناجیہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ولید بن عقبہ بن ابومعیط کو ہماری طرف بھیجا ، تاکہ وہ ہمارے اموال کی زکوۃ وصول کرے ، وہ روانہ ہوا جب وہ ہمارے قریب پہنچا تو واپس چلا گیا ، یہ غزوہ مریسیع کے بعد کی بات ہے ، میں سوار ہو کر اس کے پیچھے گیا ، وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور بولا: یا رسول اللہ ! میں ایک ایسی قوم کے پاس گیا ، جو ابھی بھی زمانہ جاہلیت کے سے ہیں ، انہوں نے لباس لے لیا اور زکوۃ دینے سے انکار کر دیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بارے میں مزید کچھ نہیں کیا تھا کہ اس حوالے سے یہ آیت نازل ہو گئی : ” اے ایمان والو ! اگر کوئی فاسق شخص تمہارے پاس کوئی اطلاع لے کر آئے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ ۔ پھر بنو مصطلق کے لوگ ولید کے پیچھے اپنے صدقات کے جانور وغیرہ ہانک کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور دیگر چیزیں بھی تھیں جو ان پر لادے ہوئی تھیں ، انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے یہ بات ذکر کی ، کہ وہ لوگ ولید کی تلاش میں اپنے صدقات لے کر نکلے تھے ، انہیں ولید نہیں ملے ، تو وہ چیزیں انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے کر دیں ، جو ان کے پاس تھیں ان لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہمیں یہ اطلاع ملی تھی کہ آپ کا نمائندہ روانہ ہو گیا ہے ، ہم اس بات سے خوش تھے ہم اس سے مانا چاہتے تھے ، لیکن ہمیں یہ پتہ چلا کہ وہ واپس چلا گیا ہے ، تو ہمیں یہ اندیشہ ہوا کہ یہ ہم پر کسی ناراضگی کی وجہ سے نہ ہو ، پھر انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے یہ بات پیش کی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم باقی رہ جانے والی چیزیں ان سے خرید لیں اور جو زکوۃ ہے ، وہ ان سے وصول کر لیں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم لوگ اپنے اخراجات کی چیزیں واپس لے جاؤ ، ہم صدقات میں سے کوئی چیز اس وقت تک فروخت نہیں کریں گے ، جب تک اسے قبضے میں نہیں لے لیتے ، تو وہ لوگ اپنے اہل خانہ کی طرف واپس چلے گئے اور ان کے صدقات کے بقایا جات میں سے جو چیزیں تھیں ، وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن کی طرف بھیجوا دیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 11353
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (6/17)»