مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب التفسير— تفسیر کے بارے میں روایات
قَوْلُهُ تَعَالَى : يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنْ جَاءَكُمْ فَاسِقٌ بِنَبَإٍ فَتَبَيَّنُوا . باب: ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ اے ایمان والو ! جب کوئی فاسق شخص تمہارے پاس کوئی اطلاع لے کر آئے ، تو تم تحقیق کر لیا کرو “
عَنِ الْحَارِثِ بْنِ ضِرَارٍ الْخُزَاعِيِّ قَالَ : قَدِمْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَدَعَانِي إِلَى الْإِسْلَامِ ، فَأَقْرَرْتُ بِهِ وَدَخَلْتُ فِيهِ ، وَدَعَانِي إِلَى الزَّكَاةِ فَأَقْرَرْتُ بِهَا ، وَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَرْجِعُ إِلَى قَوْمِي فَأَدْعُوهُمْ إِلَى الْإِسْلَامِ وَأَدَاءِ الزَّكَاةِ ، فَمَنِ اسْتَجَابَ لِي جَمَعْتُ زَكَاتَهُ ، فَيُرْسِلُ إِلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَسُولًا لِإِبَّانِ كَذَا وَكَذَا لِيَأْتِيَكَ مَا جَمَعْتُ مِنَ الزَّكَاةِ . فَلَمَّا جَمَعَ الْحَارِثُ الزَّكَاةَ مِمَّنِ اسْتَجَابَ لَهُ ، وَبَلَغَ الْإِبَّانَ الَّذِي أَرَادَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ يَبْعَثَ إِلَيْهِ احْتَبَسَ الرَّسُولُ فَلَمْ يَأْتِهِ ، فَظَنَّ الْحَارِثُ أَنَّهُ قَدْ حَدَثَ فِيهِ سَخْطَةٌ مِنَ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - وَرَسُولِهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَدَعَا سَرَوَاتِ قَوْمِهِ ، فَقَالَ لَهُمْ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ وَقَّتَ [ لِي ] وَقْتًا يُرْسِلُ إِلَيَّ رَسُولَهُ لِيَقْبِضَ مَا كَانَ عِنْدِي مِنَ الزَّكَاةِ ، وَلَيْسَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْخُلْفُ ، وَلَا أَرَى حَبْسَ رَسُولِهِ إِلَّا مِنْ سَخْطَةٍ كَانَتْ ، فَانْطَلِقُوا فَنَأْتِيَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . وَبَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْوَلِيدَ بْنَ عُقْبَةَ [ إِلَى الْحَارِثِ ] لِيَقْبِضَ مَا كَانَ عِنْدَهُ مِمَّا جَمَعَ مِنَ الزَّكَاةِ ، فَلَمَّا أَنَّ سَارَ الْوَلِيدُ حَتَّى بَلَغَ بَعْضَ الطَّرِيقِ فَرَقَ فَرَجَعَ ، فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : [ يَا رَسُولَ اللَّهِ ] إِنَّ الْحَارِثَ مَنَعَنِي الزَّكَاةَ وَأَرَادَ قَتْلِي . فَضَرَبَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْبَعْثَ إِلَى الْحَارِثِ ، فَأَقْبَلَ الْحَارِثُ بِأَصْحَابِهِ ، إِذِ اسْتَقْبَلَ الْبَعْثَ وَفَصَلَ مِنَ الْمَدِينَةِ فَلَقِيَهُمُ الْحَارِثُ ، فَقَالُوا : هَذَا الْحَارِثُ ، فَلَمَّا غَشِيَهُمْ قَالَ لَهُمْ : إِلَى مَنْ بُعِثْتُمْ ؟ قَالُوا : إِلَيْكَ ، قَالَ : وَلِمَ ؟ قَالُوا : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ بَعَثَ إِلَيْكَ الْوَلِيدَ بْنَ عُقْبَةَ ، فَزَعَمَ أَنَّكَ مَنَعْتَهُ الزَّكَاةَ وَأَرَدْتَ قَتْلَهُ ، قَالَ : لَا ، وَالَّذِي بَعَثَ مُحَمَّدًا بِالْحَقِّ مَا رَأَيْتُهُ الْبَتَّةَ وَلَا أَتَانِي . فَلَمَّا دَخَلَ الْحَارِثُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَنَعْتَ الزَّكَاةَ وَأَرَدْتَ قَتْلَ رَسُولِي ؟ " ، قَالَ : لَا ، وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا رَأَيْتُهُ بَتَّةً ، وَلَا أَتَانِي ، وَمَا احْتَبَسْتُ إِلَّا حِينَ احْتَبَسَ عَلَيَّ رَسُولُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَشِيتُ أَنْ يَكُونَ كَانَتْ سَخْطَةً مِنَ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - وَرَسُولِهِ ، قَالَ : فَنَزَلَتِ الْحُجُرَاتُ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنْ جَاءَكُمْ فَاسِقٌ بِنَبَإٍ فَتَبَيَّنُوا أَنْ تُصِيبُوا قَوْمًا بِجَهَالَةٍ فَتُصْبِحُوا عَلَى مَا فَعَلْتُمْ نَادِمِينَ إِلَى هَذَا الْمَكَانِ فَضْلًا مِنَ اللَّهِ وَنِعْمَةً وَاللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : الْحَارِثُ بْنُ سِرَارٍ بَدَلَ ضِرَارٍ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ . ¤سیدنا حارث بن ضرار خزاعی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، آپ نے مجھے اسلام کی دعوت دی ، میں نے اس کا اقرار کر لیا اور اسلام میں داخل ہو گیا ، آپ نے مجھے زکوۃ کی دعوت دی ، میں نے اس کا اقرار کر لیا ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا میں اپنی قوم کی طرف واپس جا کر انہیں اسلام کی طرف اور زکوۃ کی ادائیگی کی طرف دعوت دوں ؟ جو شخص میری دعوت قبول کر لے گا ، میں اس کی زکوۃ اکٹھی کروں گا اور پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اتنے عرصے کے بعد اپنے قاصد کو ، میرے پاس بھیج دیں ، تو جب سیدنا حارث رضی اللہ عنہ نے ، ان لوگوں سے زکوۃ جمع کر لی ، اور وہ وقت آ گیا ، جس میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ، اپنے قاصد کو ان لوگوں کی طرف بھیجنا ہے ، تو وہ قاصد وہاں نہیں آیا ، سیدنا حارث رضی اللہ عنہ یہ سمجھے کہ شاید ان کے بارے میں ، اللہ تعالٰی اور اس کے رسول کی طرف سے کوئی ناراضگی سامنے آئی ہے تو انہوں نے اپنی قوم کے معززین کو بلوایا اور ان سے کہا: اللہ کے رسول نے میرے ساتھ ایک وقت طے کیا تھا کہ جس میں آپ اپنے قاصد کو میرے پاس بھیجیں گے ، تاکہ وہ میرے پاس موجود زکوۃ کو وصول کر لے ، تو اللہ کے رسول کی طرف سے تو وعدہ خلافی نہیں ہو سکتی ، میں یہ سجھتا ہوں کہ وہ قاصد کیونکہ نہیں آیا ہے ، تو اس کا مطلب ہے کہ کوئی ناراضگی ہے ، تو تم لوگ چلو ! ہم اللہ کے رسول کے پاس جاتے ہیں ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ولید بن عقبہ کو حارث کی طرف بھیجا ، تاکہ وہ ان سے ان کے پاس موجود جمع شدہ زکوۃ لے لیں جب ولید روانہ ہوئے اور راستے میں کسی جگہ پر پہنچے ، تو انہیں کچھ خیال آیا وہ واپس آئے ، وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! حارث نے مجھے زکوۃ نہیں دی ، اس نے مجھے قتل کرنے کا ارادہ کیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حارث کی طرف ایک جنگی مہم بھیجی ، اسی دوران حارث اپنے ساتھیوں کو لے کر آ رہے تھے ، ان کا اس مہم سے سامنا ہوا ، یہ مدینہ منورہ سے باہر کی بات ہے ، جب حارث کا ان لوگوں سے سامنا ہوا ، تو ان لوگوں نے کہا: یہ تو حارث ہے ، جب وہ ان کے پاس پہنچ گئے ، تو حارث نے ان سے دریافت کیا : تم لوگوں کو کس کی طرف بھیجا گیا ہے ؟ ان لوگوں نے بتایا : تمہاری طرف ، حارث نے دریافت کیا : وہ کیوں ؟ ان لوگوں نے بتایا کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ولید بن عقبہ کو تمہاری طرف بھیجا تھا ، اُس کا یہ کہنا ہے کہ تم نے اسے زکوۃ بھی نہیں دی اور تم نے اسے قتل کرنے کا ارادہ بھی کیا ، تو حارث نے کہا: جی نہیں ! اس ذات کی قسم ! جس نے سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو حق کے ہمراہ مبعوث کیا ہے ، میں نے تو اُسے دیکھا بھی نہیں ہے اور نہ ہی وہ میرے پاس آیا ہے ، جب حارث ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : تم نے زکوۃ بھی نہیں دی اور میرے قاصد کو قتل کرنے کا بھی ارادہ کیا ؟ حارث نے عرض کی : جی نہیں ! اس ذات کی قسم ! جس نے آپ کو حق کے ہمراہ مبعوث کیا ہے ، میں نے تو اسے سرے سے دیکھا ہی نہیں ، اور نہ ہی وہ میرے پاس آیا ہے جب اللہ کے رسول کا قاصد متعین وقت تک میرے پاس نہیں آیا ، تو مجھے یہ اندیشہ ہوا کہ کہیں یہ اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے کسی ناراضگی کی وجہ سے نہ ہو راوی بیان کرتے ہیں : تو اس بارے میں سورت حجرات کی یہ آیات نازل ہوئیں : ” اے ایمان والو ! جب کوئی فاسق شخص تمہارے پاس کوئی اطلاع لے کر آئے ، تو تم تحقیق کر لیا کرو ، کہیں ایسا نہ ہو کہ لاعلمی میں تم کسی قوم کو نقصان پہنچاؤ اور پھر بعد میں اپنے کیے ہوئے پر نادم ہو “ ۔ یہ آیت یہاں تک ہے : ” اللہ تعالیٰ کی طرف سے فضل اور نعمت ، اور اللہ تعالیٰ علم والا ، حکمت والا ہے “ ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے حارث بن ضرار کی جگہ لفظ حارث بن سرار نقل کیا ہے اور امام أحمد کے رجال ثقہ ہیں ۔