مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب التفسير— تفسیر کے بارے میں روایات
قَوْلُهُ تَعَالَى : قُلْ يَاعِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَى أَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِنْ رَحْمَةِ اللَّهِ . باب: ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ تم یہ فرما دو ! اے میرے وہ بندو ! جنہوں نے اپنی جان پر ظلم کیا ، تم لوگ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوس نہ ہو “
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : كُنَّا نَقُولُ مَا لِمَنِ افْتَتَنَ تَوْبَةٌ إِذَا تَرَكَ دِينَهُ بَعْدَ إِسْلَامِهِ وَمَعْرِفَتِهِ ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ فِيهِمْ يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَى أَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِنْ رَحْمَةِ اللَّهِ ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ . وَقَدْ تَقَّدَمَ بِطُولِهِ فِي الْمَغَازِي وَالْهِجْرَةِ ، وَفِيهِ ابْنُ إِسْحَاقَ وَهُوَ ثِقَةٌ وَلَكِنَّهُ مُدَلِّسٌ . قُلْتُ : وَحَدِيثُ ابْنِ مَسْعُودٍ فِي سُورَةِ الطَّلَاقِ . ¤سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ہم پہلے یہ سمجھا کرتے تھے کہ جو شخص آزمائش کا شکار ہو جائے ، اس کے لئے توبہ کی گنجائش نہیں ہو گی ، یعنی جب اس نے اسلام قبول کرنے کے بعد اور اسلام کی معرفت کے بعد ، اپنے دین کو ترک کر دیا ہو ، تو اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے بارے میں یہ آیت نازل کی : ” اے میرے وہ بندو ! جنہوں نے اپنے اوپر ظلم کیا ، تم اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو “ ۔ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے ، جو اس سے پہلے مغازی اور ہجرت سے متعلق باب میں گزر چکی ہے ۔ اس روایت کی سند میں ، ایک راوی ابن اسحاق ہے اور وہ ثقہ ہے ، لیکن وہ مدلس ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی نقل کردہ حدیث سورت طلاق میں ہے ۔