مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب التفسير— تفسیر کے بارے میں روایات
قَوْلُهُ تَعَالَى : قُلْ يَاعِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَى أَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِنْ رَحْمَةِ اللَّهِ . باب: ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ تم یہ فرما دو ! اے میرے وہ بندو ! جنہوں نے اپنی جان پر ظلم کیا ، تم لوگ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوس نہ ہو “
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى وَحْشِيِّ بْنِ حَرْبٍ قَاتِلِ حَمْزَةَ يَدْعُوهُ إِلَى الْإِسْلَامِ ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ : يَا مُحَمَّدُ كَيْفَ تَدْعُونِي وَأَنْتَ تَزْعُمُ أَنَّ مَنْ قَتَلَ أَوْ أَشْرَكَ أَوْ زَنَى ( يَلْقَ أَثَامًا يُضَاعَفُ لَهُ الْعَذَابُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَيَخْلُدْ فِيهِ مُهَانًا ) وَأَنَا صَنَعْتُ ذَلِكَ فَهَلْ تَجِدُ لِي مِنْ رُخْصَةٍ ؟ فَأَنْزَلَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - إِلَّا مَنْ تَابَ وَآمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًا فَأُولَئِكَ يُبَدِّلُ اللَّهُ سَيِّئَاتِهِمْ حَسَنَاتٍ وَكَانَ اللَّهُ غَفُورًا رَحِيمًا فَقَالَ وَحْشِيٌّ : يَا مُحَمَّدُ هَذَا شَرْطٌ شَدِيدٌ إِلَّا مَنْ تَابَ وَآمَنَ وَعَمِلَ عَمَلًا صَالِحًا فَلَعَلِّي لَا أَقْدِرُ عَلَى هَذَا ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - إِنَّ اللَّهَ لَا يَغْفِرُ أَنْ يُشْرَكَ بِهِ وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذَلِكَ لِمَنْ يَشَاءُ فَقَالَ وَحْشِيٌّ : يَا مُحَمَّدُ ، هَذَا أَرَى بَعْدَ مَشِيئَةٍ فَلَا أَدْرِي يُغْفَرُ لِي أَمْ لَا ؟ فَهَلْ غَيْرُ هَذَا ؟ فَأَنْزَلَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَى أَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِنْ رَحْمَةِ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا إِنَّهُ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ قَالَ وَحْشِيٌّ : هَذَا نَعَمْ ، فَأَسْلَمَ ، فَقَالَ النَّاسُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّا أَصَبْنَا مَا أَصَابَ وَحْشِيٌّ ؟ قَالَ : " هِيَ لِلْمُسْلِمِينَ عَامَّةً " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ أَبْيَنُ بْنُ سُفْيَانَ ضَعَّفَهُ الذَّهَبِيُّ . ¤سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وحشی بن حرب رضی اللہ عنہ کو پیغام بھیجا اور اسے اسلام کی دعوت دی یہ وہ صاحب ہیں ، جنہوں نے سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کو شہید کیا تھا ، تو وحشی نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو پیغام بھیجا کہ اے سیدنا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ! آپ مجھے کیسے دعوت دے رہے ہیں ؟ جبکہ آپ کا یہ کہنا ہے کہ جو شخص قتل کرے ، یا شرک کرے ، یا زنا کرے ، تو وہ گناہ کا مرتکب ہوتا ہے اور قیامت کے دن اسے دگنا عذاب دیا جائے گا ، اور وہ رسوا ہو کر اس میں رہے گا ، میں نے تو یہ کام کیے ہوئے ہیں تو کیا آپ میرے لئے کوئی رخصت پاتے ہیں ؟ تو اس بارے میں یہ آیت نازل ہوئی : ” البتہ اس شخص کا معاملہ مختلف ہے ، جو توبہ کر لے اور ایمان لے آئے اور نیک عمل کر لے ، تو اللہ تعالٰی اُن لوگوں کی برائیاں نیکیوں میں تبدیل کر دے گا اور اللہ تعالیٰ مغفرت کرنے والا ، رحم کرنے والا ہے “ ۔ تو وحشی نے عرض کی : اے سیدنا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ! یہ تو مشکل شرط ہے کہ جو شخص توبہ کر لے ، ایمان لے آئے اور نیک عمل کرے گا ، اس کا معاملہ مختلف ہے ، ہو سکتا ہے کہ میں یہ کام نہ کر سکوں ، تو اللہ تعالیٰ نے اس بارے میں یہ آیت نازل کی : ” بے شک اللہ تعالیٰ اس بات کی مغفرت نہیں کرے گا کہ کسی کو اس کا شریک ٹھہرایا جائے ، وہ اُس کے علاوہ جس کی چاہے گا ، مغفرت کر دے گا “ ۔ تو وحشی نے عرض کی : اے سیدنا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) میں یہ دیکھ رہا ہوں کہ یہ چیز بھی اللہ کی مشیت کے بعد ہی ہے ، تو مجھے کیا پتہ کہ وہ میری مغفرت کرے گا ، یا نہیں کرے گا ؟ کیا اس کے علاوہ کچھ اور ہو سکتا ہے ؟ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی : ” اے میرے وہ بندو ! جنہوں نے اپنے اوپر ظلم کیا ، تم لوگ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوس نہ ہو ، بے شک اللہ تعالیٰ تمام گناہوں کی مغفرت کر دے گا ، بے شک وہ مغفرت کرنے والا ، رحم کرنے والا ہے “ ۔ تو وحشی نے کہا: یہ ٹھیک ہے ، پھر انہوں نے اسلام قبول کر لیا ، لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہم نے بھی اسی طرح کے کاموں کا ارتکاب کیا ہے ، جن کا ارتکاب وحشی نے کیا ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یہ حکم مسلمانوں کے لئے عمومی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابین بن سفیان ہے ، جسے امام ذہبی نے ضعیف قرار دیا ہے ۔