مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب التفسير— تفسیر کے بارے میں روایات
قَوْلُهُ تَعَالَى : قُلْ يَاعِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَى أَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِنْ رَحْمَةِ اللَّهِ . باب: ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ تم یہ فرما دو ! اے میرے وہ بندو ! جنہوں نے اپنی جان پر ظلم کیا ، تم لوگ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوس نہ ہو “
عَنْ ثَوْبَانَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَا أُحِبُّ أَنَّ لِي الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا بِهَذِهِ الْآيَةِ يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَى أَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِنْ رَحْمَةِ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا إِنَّهُ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ ، فَقَالَ رَجُلٌ : وَمَنْ أَشْرَكَ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِلَّا مَنْ أَشْرَكَ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَأَحْمَدُ بِنَحْوِهِ وَقَالَ : " إِلَّا مَنْ أَشْرَكَ " ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ وَفِيهِ ضَعْفٌ وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ . ¤سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ ، جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام ہیں ، وہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” مجھے اس آیت کے مقابلے میں ، یہ پسند نہیں ہے کہ دنیا اور اس میں موجود سب کچھ مجھے مل جاتا ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) اے میرے وہ بندو ! جنہوں نے اپنے اوپر ظلم کیا ، تم لوگ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوس نہ ہو ، بے شک اللہ تعالیٰ تمام گناہوں کی مغفرت کر دے گا ، بے شک وہ مغفرت کرنے والا ، رحم کرنے والا ہے “ ۔ ایک صاحب نے عرض کی : اور جو شخص شرک کرے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : البتہ اس شخص کا معاملہ مختلف ہے ، جو شرک کرے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، امام أحمد نے اس کی مانند نقل کی ہے ، انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” البتہ اس شخص کا معاملہ مختلف ہے جو شرک کرے “ یہ بات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ ارشاد فرمائی ۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ، اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے ۔