مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الطهارة— طہارت کے بارے میں روایات
بَابُ فَضْلِ الْوُضُوءِ . باب: وضو کی فضیلت
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِذَا تَوَضَّأَ الْمُسْلِمُ ذَهَبَ الْإِثْمُ مِنْ سَمْعِهِ وَبَصَرِهِ وَيَدَيْهِ وَرَجِلَيْهِ " قَالَ : فَجَاءَ أَبُو طَيْبَةَ وَهُوَ يُحَدِّثُنَا هَذَا ، فَقَالَ : مَا يُحَدِّثُكُمْ ؟ فَذَكَرْنَا لَهُ الَّذِي حَدَّثَنَا ، فَقَالَ رَجُلٌ : سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ عَبَسَةَ يَذْكُرُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَزَادَ فِيهِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَبِيتُ عَلَى طُهْرٍ ، ثُمَّ يَتَعَارُّ مِنَ اللَّيْلِ ، فَيَذْكُرُ اللَّهَ ، وَيَسْأَلُ اللَّهَ خَيْرًا مِنْ خَيْرِ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ - إِلَّا آتَاهُ اللَّهُ إِيَّاهُ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ بِنَحْوِهِ ، وَقَالَ فِيهِ : " مَنْ بَاتَ طَاهِرًا عَلَى ذِكْرِ اللَّهِ " ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤ قُلْتُ : وَيَأْتِي حَدِيثُ ابْنِ عُمَرَ فِيمَنْ يَبِيتُ عَلَى طَهَارَةٍ بَعْدَ هَذَا . ¤سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” جب مسلمان وضو کرتا ہے ، تو اُس کی سماعت ، اس کی بصارت ، اس کے دونوں ہاتھوں اور اس کے دونوں پاؤں سے گناہ رخصت ہو جاتے ہیں “ ۔ راوی بیان کرتے ہیں : ایک مکتبہ ابوطیبہ آئے ، جو ہمیں یہ حدیث بیان کیا کرتے تھے ، تو انہوں نے دریافت کیا : یہ تمہیں کیا حدیث بیان کر رہے ہیں ؟ تو ہم نے انہیں اس حدیث کے بارے میں بتایا ، جو انہوں نے ہمیں بیان کی تھی ، تو ایک شخص نے یہ کہا: میں نے سیدنا عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے یہ بات ذکر کرتے ہوئے سنا ہے ، انہوں نے اس میں یہ چیز زائد نقل کی ہے : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” جو شخص باوضو حالت میں رات بسر کرتا ہے ، اور پھر رات کے دوران کسی وقت بیدار ہو کر ، اللہ کا ذکر کرتا ہے ، تو وہ اللہ تعالیٰ سے دنیا اور آخرت کی جس بھی بھلائی کو مانگتا ہے ، اللہ تعالیٰ وہ ( بھلائی ) اُس شخص کو عطا کر دیتا ہے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں اس کی مانند روایت نقل کی ہے انہوں نے اس میں یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” جو شخص باوضو حالت میں ، اللہ کا ذکر کرتے ہوئے رات بسر کرتا ہے “ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کی سند حسن ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے منقول حدیث ، اس کے بعد آ رہی ہے ، جو اُس شخص کے بارے میں ہے ، جو باوضو حالت میں رات گزارتا ہے ۔