مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الطهارة— طہارت کے بارے میں روایات
بَابُ فَضْلِ الْوُضُوءِ . باب: وضو کی فضیلت
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ : إِذَا وَضَعْتَ الطَّهُورَ مَوَاضِعَهُ قَعَدْتَ مَغْفُورًا لَكَ ( فَإِنْ كُنْتَ تُصَلِّي كَانَتْ لَكَ فَضِيلَةٌ ) . فَقَالَ الرَّجُلُ : يَا أَبَا أُمَامَةَ ، أَرَأَيْتَ إِنْ قَامَ يُصَلِّي تَكُونُ لَهُ نَافِلَةٌ ؟ قَالَ : لَا ، إِنَّمَا النَّافِلَةُ لِلنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَيْفَ تَكُونُ لَهُ نَافِلَةٌ وَهُوَ يَسْعَى فِي الذُّنُوبِ وَالْخَطَايَا ؟ كَيْفَ تَكُونُ لَهُ فَضِيلَةٌ وَأَجْرٌ ؟ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ . وَلَهُ طَرِيقٌ رَوَاهَا أَحْمَدُ ، ذَكَرْتُهَا فِي الْخَصَائِصِ فِي عَلَامَاتِ النُّبُوَّةِ . ¤سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ( یا انہوں نے یہ روایت بیان کی : ) جب تم صحیح طرح سے وضو کرتے ہو ، تو تم ایسی حالت میں ہو جاتے ہو ، کہ تمہاری مغفرت ہو چکی ہوتی ہے ، اور اگر تم نماز ادا کرتے ہو ، تو یہ تمہارے لئے فضیلت ( یعنی اضافی اجر و ثواب کے حصول کا باعث ) ہو گی ۔ ایک شخص بولا: اے سیدنا ابوامامہ ! اس بارے میں آپ کی کیا رائے ہے ؟ اگر وہ شخص کھڑا ہو کر نماز ادا کرتا ہے ، تو کیا یہ اُس کے لیے نفل ہو گی ( یعنی اس کو نفل کہا: جا سکتا ہے ؟ ) ؟ انہوں نے جواب دیا : جی نہیں ! یہ نفل نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے تھی ، یہ آدمی کے لئے نفل کیسے ہو سکتی ہے ؟ جبکہ انسان گناہوں اور خطاؤں کا ارتکاب کرتا رہتا ہے ، یہ اس کیلئے کیسے فضیلت اور اجر ہو سکتی ہے ؟
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ، یہ ایک اور سند کے ساتھ بھی منقول ہے ، جسے امام أحمد نے نقل کیا ہے ، میں نے وہ روایت ” نبوت کی علامات سے متعلق خصوصیات “ والے باب میں ذکر کی ہے ۔