مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الطهارة— طہارت کے بارے میں روایات
بَابُ فَضْلِ الْوُضُوءِ . باب: وضو کی فضیلت
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ فِي حَدِيثٍ رَفَعَهُ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَتَوَضَّأُ ، فَيَغْسِلُ يَدَيْهِ ، وَيُمَضْمِضُ فَاهُ ، وَيَتَوَضَّأُ كَمَا أُمِرَ - إِلَّا حَطَّ اللَّهُ عَنْهُ مَا أَصَابَ يَوْمَئِذٍ مَا نَطَقَ بِهِ فَمُهُ ، وَمَا مَسَّ بِيَدِهِ ، وَمَا مَشَى إِلَيْهِ ، حَتَّى إِنَّ الْخَطَايَا لَتَحَادَرُ مِنْ أَطْرَافِهِ ، ثُمَّ هُوَ إِذَا مَشَى إِلَى الْمَسْجِدِ فَرِجْلٌ تَكْتُبُ حَسَنَةً وَأُخْرَى تُمْحِي سَيِّئَةً " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ لَقِيطٌ أَبُو الْمُشَاوِرِ ، رَوَى عَنْ أَبِي أُمَامَةَ ، وَرَوَى عَنْهُ الْجَرِيرِيُّ وَقُرَّةُ بْنُ خَالِدٍ ، وَقَدْ ذَكَرَهُ ابْنُ حِبَّانَ فِي الثِّقَاتِ وَقَالَ : يُخْطِئُ وَيُخَالَفُ . ¤سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تک ” مرفوع “ حدیث کے طور پر ، یہ بات نقل کرتے ہیں : آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” جب کوئی مسلمان وضو کرتا ہے اور اپنے ہاتھ دھوتا ہے اور منہ میں کلی کرتا ہے اور اس طرح وضو کرتا ہے جس طرح اسے حکم دیا گیا ہے ، تو اللہ تعالیٰ اس کے ان تمام گناہوں کو ختم کر دیتا ہے ، جس کا ارتکاب اس نے اس دن میں کیا تھا ، جسے وہ منہ کے ذریعے بولا: تھا ، یہ جو اس نے ہاتھ کے ذریعے مس کیا تھا ، یا جس کی طرف وہ چل کے گیا تھا ، یہاں تک کہ اس کے اطراف کے گناہ گر جاتے ہیں ، اور پر جب وہ پیدل چل کر ، مسجد کی طرف جاتا ہے ، تو ایک قدم نیکی نوٹ کرواتا ہے ، اور دوسرا گناہ مٹا دیتا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی لقیط ابومشاور ہے ، جس نے سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے ، اور اس سے جریری اور قرہ بن خالد نے روایت نقل کی ہے ، ابن حبان نے اس کا تذکرہ کتاب ” الثقات “ میں کیا ہے اور یہ بات بیان کی ہے : یہ غلطی کر جاتا ہے ، اور اس کے برخلاف روایات نقل کی گئی ہیں ۔