حدیث نمبر: 11286
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنْ سَبَأٍ ، مَا هُوَ أَرَجُلٌ أَمِ امْرَأَةٌ أَمْ أَرْضٌ ؟ قَالَ : " بَلْ هُوَ رَجُلٌ وَلَدَ عَشَرَةً ، فَسَكَنَ الْيَمَنَ مِنْهُمْ سِتَّةٌ ، وَسَكَنَ الشَّامَ مِنْهُمْ أَرْبَعَةٌ ، فَأَمَّا الْيَمَانِيُّونَ فَمَذْحِجٌ وَكِنْدَةُ وَالْأَزْدُ وَالْأَشْعَرِيُّونَ وَأَنْمَارٌ وَحِمْيَرٌ عَرَبًا كُلُّهَا ، وَأَمَّا الشَّامِيَّةُ فَلَخْمٌ وَجُذَامُ وَعَامِلَةُ وَغَسَّانُ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ وَفِيهِ ضَعْفٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِمَا ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ” سبا “ کے بارے میں دریافت کیا کہ اس سے مراد کیا ہے ؟ کیا یہ کوئی مرد ہے ؟ یا عورت ہے ؟ یا سرزمین ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جی نہیں ! بلکہ یہ مرد ہے ، جس کے ہاں دس بیٹے پیدا ہوئے تھے ، ان میں سے چھ نے یمن میں سکونت اختیار کی ، اور ان میں سے چار نے شام میں سکونت اختیار کی ، جہاں تک یمنی بیٹوں کا تعلق ہے تو وہ یہ ہیں : مذحج ، کنده ، ازد ، اشعریون ، انمار اور حمیر ، یہ سب عرب ہیں ، جہاں تک شامی بیٹوں کا تعلق ہے ، تو وہ یہ ہیں لخم ، جذام ، عاملہ اور غسان ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ، ان دونوں کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 11286
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (2900)»